خطبات محمود (جلد 1) — Page 211
MI (۲۲) ( فرموده ۲۸ جنوری ۱۹۳۳ء بمقام عید گاہ۔قادیان) فطرت انسانی میں اللہ تعالیٰ نے خوشی اور غم کی دو لہریں جاری کی ہیں غم کی لہر کیا ہے اس بات کی علامت ہے کہ کوئی چیز کھوئی گئی ہے اور خوشی کی لہر کیا ہے اس بات کی خبر ہے کہ کوئی چیز پائی گئی ہے۔وہی باتیں جو ہم اپنی زبان سے کہتے اور الفاظ سے ادا کرتے ہیں ان کو ہماری فطرت احساسات سے ادا کرتی ہے۔جس طرح ہم خوشی کے موقع پر دوسرے سے کہتے ہیں مبارک ہو اس کے مقابل طبیعت کیا کرتی ہے؟ دل میں خون کا دورہ پیدا کرتی ہے حرکت ہوتی ہے اور یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا ہمیں کوئی چیز مل گئی ہے۔اسی طرح جب کسی غم کے موقع پر ہم کسی سے کہتے ہیں بڑا افسوس ہے تو طبیعت اس کے دل پر ایک بوجھ ڈالتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ہم یوں محسوس کرتے ہیں کہ طبیعت کسی بات میں لگتی نہیں گویا کوئی چیز کھوئی ہے۔یہ فطرت کی آواز ہوتی ہے جو بسا اوقات ہمیں بہت سی تباہیوں سے بچا لیتی ہے۔فرض کرو کوئی شخص اعصابی کمزوری میں مبتلاء ہے۔اعصاب کا سلسلہ اتنا باریک ہوتا ہے کہ اس کے نقائص کو اطباء اور ڈاکٹر بھی اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے۔چہ جائیکہ کسی اور انسان کو اس ہو۔ایک شخص ڈاکٹر کے پاس جاتا اور کہتا ہے میری طبیعت اداس رہتی ہے اس سے ڈاکٹر سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اعصاب کمزور ہو رہے ہیں اور وہ اسے کوئی Nervous لے ٹانک دے دیتا ہے۔اعصابی کمزوری کے باعث اسے جو اُداسی لاحق تھی وہ گویا اس کی فطرت کی آواز تھی جس نے اس کے اندرونی نقص سے اسے اطلاع دے دی اور اسے بتا دیا کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ ضائع ہو گیا ہے۔تو غم اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ کوئی چیز کھوئی گئی ہے اور خوشی اس بات کی کہ کوئی چیز مل گئی ہے۔اب یہ جو عید کا دن ہے جسے ہم خوشی کا دن قرار دیتے ہیں ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اس دن کیا چیز ہے جو ہمیں مل گئی۔میں نے کل کے خطبہ لہ میں بیان کیا تھا کہ رسول کریم میں نے فرمایا ہے۔اللہ تعالٰی نے کہا کہ بندے کے ہر نیک فعل کے لئے میں اسے کوئی نہ کوئی انعام دیتا ہوں لیکن روزوں کے بدلہ میں اپنی ذات اسے دے دیتا ہوں۔۳