خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 63

۶۳ ہوتے ہیں۔اسی طرح بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے متعلق انسان کہتا ہے کہ کب سورج چڑھے اور یہ کب گزریں۔عید ان دنوں میں سے نہیں جن کے ختم ہونے کی خواہش کی جاتی ہے بلکہ یہ ان دنوں میں سے ہے جن کے متعلق آرزو کی جاتی ہے کہ وہ پھر پھر کر آئیں۔وہ گھڑیاں جن میں انسان دکھوں اور مصیبتوں سے بچا ہوا ہو۔وباؤں ابتلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ ہو۔راحتیں اور آرام میسر ہوں اس کے اور اس کے عزیزوں اور اقارب میں ہر طرح خوشی و خور می ہو اس دن کو عید کہتے ہیں۔به دن تو عید کے معنے ہوئے وہ دن جس میں انسان ابتلا سے بچ جائے اور جب انسان دکھ سے اور آفت سے بچ جاتا اور اس کو سکھ پہنچ جاتا ہے تو وہی دن اس کے لئے عید کا دن ہوتا ہے اور وہی گھڑی اور وہی ساعت اس کے لئے عید کی ساعت ہوتی ہے۔رنج اور دکھ اور آفت کا دن عید کا دن نہیں ہو تا۔جو شخص بلاؤں میں سے گذر رہا ہو اس کے لئے عید نہیں۔عید اسی کی ہے جو راحت اور آرام میں ہوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ عید محض اجتماع کا نام نہیں کیونکہ جنازہ پر بھی اجتماع ہوا کرتے ہیں اور اس اجتماع کے دن کے متعلق تو تم یہ کہتے ہو کہ دوبارہ ہم پر نہ آئے اور خدا یہ دن نہ لائے۔پرسوں اتر سوں ہی ایک جنازہ پر بڑا اجتماع ہوا تھا ے مگر تم یہ نہیں چاہتے کہ وہ دن پھر تم پر آئے اور اس دن کو تم عید نہیں کہتے مگر آج کے دن کو عید کہتے ہو۔اگر چہ اس دن تمہاری زبانیں یہ نہیں کہتی تھیں کہ یہ دن نہ آئے لیکن تمہارے دل یہی کہتے تھے کہ یہ دن نہ آئے۔اس کے مقابلہ میں آج کے دن کے لئے تمہاری خواہش ہے کہ خدا کرے یہ دن پھر بھی ہم پر آئے کیونکہ تمہارے نزدیک یہ دن تمہارے لئے خوشی کا دن ہے۔عید کے معنے جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔دوبارہ لوٹ کر آنے کے ہیں۔اس مفہوم کو دل میں جگہ دو اور سوچو کہ کیا واقع میں تم سچ سچ خواہش رکھتے ہو کہ یہ دن تم پر پھر بھی آئے۔کسی چیز کی خواہش کرنے کے معنے یہ ہوا کرتے ہیں کہ ایسی چیز جو اب اپنے پاس نہیں اس کو حاصل کیا جائے۔اور جو چیز اپنے پاس ہو، اس کی خواہش نہیں کی جاتی۔مثلاً وہ شخص جس کے پاس روپیہ ہو وہ روپیہ کی آرزو نہیں کرتا۔خواہش اسی چیز کی ہوتی ہے جو چیز میسر نہ ہو اور جس چیز کا لانا اور لینا اپنے اختیار میں نہ ہو۔مثلاً آج لوگ کپڑے پہنتے ہیں، آج لوگ اچھے کھانے کھاتے ہیں، آج لوگ جمع ہوتے ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی عید نہیں کیونکہ یہ تینوں چیزیں