خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 62

۶۲ فطری تقاضا ہے۔اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائی بہت سے کام ہیں جن کا اب ایک دوسرے میں نشان نہیں ملتا لیکن یہ ایک ایسا فعل ہے کہ اب تک سب میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے یہ ثبوت ہے اس کا کہ یہ فطرت کے صحیح تقاضوں کے ماتحت ہے اور محض وراثت میں ملی ہوئی بات نہیں کیونکہ اس کے ذریعہ فطرت کے ایک تقاضا کو پورا کیا گیا ہے۔پس عید کوئی معمولی چیز نہیں یہ ایک فطرت کا تقاضا ہے۔نیچر مجبور کرتی ہے اور انسان کے دل میں ایک خواہش پائی جاتی ہے۔اور یہ صحیح فطرت ہے کیونکہ بعض فطرتیں اصل میں رسوم کے ماتحت پیدا ہو جاتی ہیں ان کو فطرت نہیں کہا جاتا بلکہ وہ عادت کے طور پر کسی ایک قوم میں پیدا ہو جاتی ہیں جن کی وجہ عام طور پر وقتی ضروریات بھی ہوتی ہیں۔مگر یہ وہ فطرت ہے جس پر انسان کو اللہ تعالیٰ نے خلق کیا ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ تمام مذاہب کے لوگوں نے اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔اور جو باتیں فطرت نہیں ہو تیں ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔حقیقی فطرت نے مجبور کیا کہ وہ ایک دن ایسا رکھیں جس میں جمع ہو کر خوشی منائیں۔تو خواہ لوگ مذاہب کے پابند ہوں یا نہ ہوں سب نے اس قسم کے ایام رکھے ہوئے ہیں۔کسی نے میلے بنائے ہیں اور بعض قوموں نے عیاشی کے رنگ میں یہ دن رکھا ہے۔بہر حال دن سب نے رکھا ہے کیونکہ فطرت کی طرف سے نقاضا ہے کہ ایسا دن ہونا چاہئے۔یہ اتنا بڑا تقاضا ہے کہ جس کو مذاہب نے قبول کیا ہے اور جہاں مذاہب نہیں وہاں بھی اس کا وجود پایا جاتا ہے۔اس کی کیا غرض ہے اور یہ کیوں پایا جاتا ہے۔یہ تقاضا خدا نے انسان کی طبیعت میں رکھا ہے۔وہ تقاضا پکار پکار کر کہتا ہے کہ ایسا کوئی دن ہونا چاہئے جس میں ادنی اعلیٰ، جاہل عالم ، متمدن و غیر متمدن سب مل کر خوشی منائیں اس کے لئے ہم اس زبان کی طرف جاتے ہیں جو اللہ تعالٰی نے اپنے الہام کے طور پر انسان کو سکھائی اور وہ عربی زبان ہے۔اس میں یہ خصوصیت ہے کہ یہ فطرت کے تقاضوں کو لفظوں کے ذریعہ پیش کرتی ہے۔عید عربی زبان کا لفظ ہے۔اور اس کے معنے ہیں وہ خوشی اور راحت اور برکت کا دن جو انسان کے دل میں یہ بات پیدا کرتا ہے کہ وہ خواہش کرے کہ یہ دن پھر بھی اس پر آئے۔عید عود سے نکلا ہے تو عید وہ دن ہوا جس کے بار بار آنے کی خواہش کی جائے اور چاہا جائے کہ یہ دن بار بار آئے۔۳ اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے دن ہوتے ہیں جن کے بار بار آنے کی خواہش کی جاتی ہے۔بعض دن تو اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے متعلق انسان انتظار کرتا ہے کہ یہ کب ختم