خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 64

۶۴ ان کے اپنے اختیار میں ہیں۔انسان جب چاہئے ان کو عمل میں لا سکتا ہے ، جب چاہئے آج ہی کی طرح اچھے کپڑے پہن سکتا ہے، جب چاہئے آج ہی کی طرح اچھا کھانا کھا سکتا ہے اور لوگ جب چاہیں جمع ہو سکتے ہیں۔ان باتوں میں سے کسی بات کے لئے بھی کوئی شخص مجبور نہیں کہ وہ ایک وقت میں کر سکتا ہو اور دوسرے وقت میں نہ کر سکتا ہو کیونکہ جس کے پاس کچھ ہو گا وہ جب چاہے گا یہ چیزیں مہیا کر لے گا۔پس معلوم ہوا کہ یہ باتیں تو عید نہیں اور نہ ان کے لئے بار بار کی خواہش ہو سکتی ہے کیونکہ یہ انسان کے اختیار میں ہیں۔پھر چھٹی کا نام عید نہیں یہ بھی انسان جب چاہے منا سکتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ عید کوئی ایسی چیز ہے جو انسان کے قبضہ اور اختیار میں نہیں ہے کیونکہ انسان عید کے لئے خواہش کرتا اور دعائیں مانگتا ہے کہ وہ دن آئے۔تو ثابت ہوا کہ یہ چیزیں عید نہیں بلکہ حقیقی عید کے لئے کچھ نشان ہیں جن سے اس کا پتہ لگتا ہے۔حقیقی عید وہ ہوتی ہے جس میں دل خوش ہو نہ کہ اچھے اور سفید کپڑے پہننے کو عید کہا جاتا ہے۔یوں تو مردہ کو بھی سفید کفن پہنایا جاتا ہے مگر کیا اس دن کو کوئی عید کہتا ہے۔پھر اجتماع کا نام بھی عید نہیں کیونکہ مُردہ پر بھی اس کے رشتہ دار اور اس کے دوست آشنا جمع ہوتے ہیں۔مرنے والے کے وارثوں کے لئے اس کا گھر میں اکیلے چار پائی پر پڑے رہنا زیادہ خوشی کا موجب ہو تا بہ نسبت اس کے کہ اس کے مرنے پر لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوتے ہیں کیونکہ جب تک ان کے ہاں ایسا اجتماع نہیں ہوا تھا ان کو خیال تھا کہ یہ ہم میں رہے لیکن اس اجتماع کے بعد معلوم ہو گیا کہ یہ اب دنیا میں ہم سے ہمیشہ کے لئے جُدا ہو گیا۔پھر عمدہ کپڑے پہننا بھی خوشی کی بات نہیں کیونکہ مردہ کا کفن بھی سفید ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ عمدہ کپڑوں کے نیچے ایک غمگین اور افسردہ اور روتا ہوا دل ہو۔اسی طرح کھانا بھی وہی اچھا ہوتا ہے جو خوشی کا کھانا ہو۔اگر خوشی نہیں تو ہر عمدہ سے عمدہ کھانا حلق سے بمشکل اُترے گا۔دکھوں اور آفتوں میں مبتلا دل کے لئے کوئی کھانا عمدہ نہیں لیکن جو شخص خوش و خرم ہو اس کے لئے جنگل کے پتے زیادہ خوشی اور راحت کا باعث ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے دل کو آرام اور سکھ اور طمانیت حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح ایک میلے کپڑوں والا جس کا دل آرام میں ہے اس عمدہ پوشاک والے کی نسبت جس کے دل میں اطمینان نہیں راحت میں ہوتا ہے۔تو عید کے معنے دل کی خوشی اور راحت کے ہیں اور جس کا حاصل کرنا فطرت کا تقاضا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی خواہش سب میں پائی جاتی ہے۔پس عید کے معنے کپڑے پہننا