خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 467

کی طرف سے آتی ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آتی۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ رحمت اور بخشش آتی ہے ہاں اس نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ جو شخص اس کی رحمت اور بخشش کو نہ لینا چاہے اس کو جبرا نہ دی جائے۔پس عید کے لفظ سے دو نکتے نکلتے ہیں اور انہیں قرآنی سند حاصل ہے۔ایک نکتہ تو یہ ہے کہ جس چیز میں لذت اور لطف محسوس ہو انسان چاہتا ہے کہ وہ نت نیت آئے۔دوسرے خدا تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس قسم کی تقریبات بار بار آئیں کیونکہ اس کا دل کسی کو سزا دینا نہیں چاہتا اس کا دل انسان کو رحمت دینا چاہتا ہے۔اور اس سے یہ مضمون بھی نکل آیا کہ صفات الہیہ کا اصل مدار رحمت کے بار بار نزول پر ہے۔مگر کتنے ہیں جن کے لئے عید آئی ہے ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کے لئے حقیقی عید آتی ہے۔عید دلی اور ظاہری چین کا نام ہے لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دلی چین تو نصیب ہوتا ہے ، ظاہری چین میتر نہیں ہوتا اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ظاہری چین نصیب ہو تا ہے لیکن دلی چین سے وہ محروم ہوتے ہیں۔بعض لوگ با مذاق ہوتے ہیں وہ عید پڑھنے چلے جاتے ہیں لیکن ان کے تن پر نہ کپڑا ہوتا ہے اور نہ انہیں پیٹ بھرنے کے لئے روٹی میسر ہوتی ہے۔لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ظاہری طور پر سب کچھ نصیب ہوتا ہے ان کی بیویاں زیوروں سے لدی ہوئی ہوتی ہیں وہ زرق برق لباس پہنے ہوئے ہوتے ہیں، ادھر ادھر آنے جانے کے لئے ان کے پاس کاریں ہوتی ہیں، بچے کھلانے کے لئے ماما ئیں ہوتی ہیں ، گھروں میں قسم قسم کے کھانے پک رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے معدہ میں ناسور ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کھانوں کی لذت انہیں نہیں آتی۔صدمات اور آپس کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے انہیں حقیقی خوشی نصیب نہیں ہوتی۔انہوں نے ظاہرا کپڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان کے پاس بیٹھی ہوئی پھٹے پڑانے کپڑے پہننے والی عورت کا دل باغ باغ ہوتا ہے لیکن ان کے دل کی اندرونی زخموں کی وجہ سے داغ داغ ہو رہے ہوتے ہیں۔غرض کسی شخص کی عید اس رنگ میں خراب ہو جاتی ہے اور کسی شخص کی عید اُس رنگ میں خراب ہو جاتی ہے۔وہ شخص جسے ظاہری طور پر بھی عید میسر ہو اور باطنی طور پر بھی اسے حقیقی عید حاصل ہو بڑی تلاش کے بعد ملتا ہے اور وہی شخص جسے ظاہری اور باطنی دونوں لحاظ سے عید نصیب ہو حقیقی خوشی محسوس کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ یہ دن بار بار لائے۔ورنہ دوسروں کے لئے اس خواہش کا اظہار ایسا ہی