خطبات محمود (جلد 1) — Page 466
اگر ان میں سے کوئی رحمت نہ لے تو میں کیا کروں۔گزشتہ انبیاء کی قوموں نے جب خدائی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا تو خدا تعالیٰ انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔انگرِ مُكْمُوهَا وَانْتُمْ لَهَا كَرِهُونَ۔یعنی اگر تم خود ہدایت لینا پسند نہیں کرتے تو ہم جبراً تمہیں ہدایت نہیں سکتے۔لیکن موجود زمانہ میں اس اصل کا بھی انکار کر دیا گیا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ نے تو یہ اصول مقرر کیا تھا کہ کسی شخص کو بالجبر ہدایت نہیں دی جا سکتی لیکن اب بعض مولویوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ڈنڈا ہاتھ میں لے لیا اور کلمہ پڑھا دیا گویا ان کے نزدیک جبرہی اچھی چیز ہے ورنہ پہلے لوگ غلطی پر تھے جو دلیلوں کی طرف جاتے تھے۔ان کے نزدیک اب اصول بدل گیا ہے۔ان کے نزدیک اگر کوئی شخص دین کی بات نہیں مانتا تو اسے بالجبر منوایا جائے تو جائز ہی نہیں ضروری ہے۔ان مولویوں کے اس عقیدہ پر ہمیشہ فطرتِ صحیحہ رکھنے والوں کی طرف سے مذاق اُڑایا جاتا ہے اور یہ مذاق بھی ہندوؤں، سکھوں یا عیسائیوں نے نہیں بنایا بلکہ خود مسلمانوں نے بنایا ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی پٹھان تھا اس نے اپنے لڑکے کی تعلیم پر ایک ہندو کو مقرر کیا ایک دن اس نے دیکھا کہ ہندو آگے آگے بھاگ رہا ہے اور لڑکا اس کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔اس ہندو نے جب لڑکے کے باپ کو دیکھا تو وہ ٹھہر گیا اور اسے مخاطب کر کے کہنے لگا۔خان صاحب !! میری جان بچائیے۔پٹھان نے اس سے دریافت کیا بات کیا ہے؟ اس نے کہا تمہارا لڑکا مجھے مارنے لگا ہے۔لڑکے نے بتایا کہ میں نے سنا ہے کہ جو شخص کسی کافر کو کلمہ پڑھا دے وہ سیدھا جنت میں جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کلمہ نہ پڑھے تو جو شخص اسے مار دے وہ بھی سیدھا جنت میں جاتا ہے یہ چونکہ کلمہ نہیں پڑھتا اس لئے میں اسے مارنا چاہتا ہوں۔اس پر اس پٹھان نے ہندو کو پکڑ لیا اور کہنے لگا خو! میرے بیٹے کا یہ پہلا وار ہے یہ خالی نہیں جانا چاہئے۔اب ہے تو یہ ایک لطیفہ مگر یہ لطیفہ مسلمانوں نے ہی بنایا ہے۔ہندوؤں ، سکھوں اور عیسائیوں نے نہیں بنایا۔فطرت صحیحہ نے جب دیکھا کہ یہ مذاق والی بات ہے تو اس نے اس قسم کے لطائف بنا دیئے ورنہ فطرت صحیحہ اور خدا تعالیٰ کی ہدایت شروع سے ہی یہ کہتی چلی آئی ہے کہ اَنرِمَكُمْوْهَا وَاَ نَنْتُمْ لَهَا كَرِهُونَ کیا ہم تمہیں جبر ا ہدایت دے سکتے ہیں اس حال میں کہ تم اسے نا پسند کرتے ہو۔پس یہ چیزیں جبری طور پر نہیں آتیں۔بے شک خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی رحمت، معافی اور بخشش آتی ہے۔لیکن کسی انسان کو بالجبر اس سے حصہ نہیں دیا جا سکتا۔اگر بندہ اس سے حصہ نہیں لیتا تو خدا تعالی بادل ناخواستہ اسے سزا دیتا ہے۔ورنہ خرابی ہمیشہ بندے