خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 468

۴۶۸ کے گا کہ ہے جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی شخص سسرال جا رہا تھا اور وہ منحوس الفاظ دُہراتا جا رہا تھا۔رستہ میں کچھ لوگ اسے ملتے گئے۔انہوں نے اسے اس قسم کے الفاظ دہرانے سے منع کیا۔اور ان کی بجائے جو الفاظ انہوں نے تجویز کئے اس نے وہ الفاظ دہرانے شروع کر دیئے۔ایک جگہ پر ایک برات جارہی تھی اور وہ یہ الفاظ دہرا رہا تھا کہ خدا تعالٰی یہ دن کبھی نہ لائے۔براتیوں نے اسے مارا اور کہا تم یہ منحوس الفاظ کیوں دُہرا رہے ہو۔اس نے کہا میں پھر کیا کہوں؟ انہوں نے کہا تم یہ کہو کہ خدا تعالی یہ دن ہر ایک کو نصیب کرے۔اس پر اس نے یہ الفاظ دہرانے شروع کر دیئے۔آگے گیا تو ایک جنازہ آرہا تھا جنازہ کے ساتھ آنے والوں نے جب یہ الفاظ سنے تو انہوں نے اسے خوب مارا اور کہا ہمارا عزیز مرگیا ہے اور ہمارے دل زخمی ہیں اور تم کہ رہے کہ خدا تعالیٰ یہ دن ہر ایک کو نصیب کرے۔اس نے کہا پھر میں کیا کہوں انہوں نے اسے بعض اور الفاظ بتا دیئے جو اس نے دُہرانے شروع کر دیئے۔پس جس کا دل افسردہ ہے کیا وہ یہ دن خدا تعالیٰ بار بار لائے۔وہ تو کہے گا کہ خدا کرے یہ دن پھر نہ آئے۔پھر جس کا ظاہر دُکھی ہو گا وہ جب دوسری عورتوں کو زیور پہنے دیکھے گا وہ جب دوسروں کو زرق برق لباس پہنے اور عطر لگائے دیکھے گا تو وہ کہے گا خدا تعالیٰ کی شان ہے ہم تو اپنے بچوں کو تھپڑ مارتے ہیں کہ وہ ہم سے نئے کپڑے کیوں مانگتے ہیں ، ہمارے پاس سویاں نہیں جو پکا کر انہیں دیں اور یہ لوگ ہیں کہ زرق برق لباس پہنے ہوئے ہیں، کاروں میں سفر کر رہے ہیں، بچوں کے لئے ماما کیں مقرر ہیں ، عورتیں قسم قسم کے زیور پہنے ہوئے ہیں ہم تو کہیں گے کہ خدا تعالیٰ یہ دن پھر نہ لائے تاکہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو تکلیف نہ ہو۔پس عید کا ملنا ہر ایک کے اختیار میں نہیں۔بہت کم لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جنہیں حقیقی عید نصیب ہوتی ہے۔کمیونسٹوں ان کو دیکھ لو انہوں نے ظاہری طور پر عید منانی چاہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس ظاہری عید کے منانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔منہ کے دعوؤں سے کیا بنتا ہے دیکھنا تو یہ ہے کہ کیا ان کی سیکیم کامیاب ہو گئی ہے؟ ان کے سکہ کی یہ حالت ہے کہ وہ اس کی قیمت کو صحیح طور پر قائم نہیں کر سکے۔اس کی قیمت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ان کی ناکامی اس بات سے ظاہر ہے کہ وہ تیکہ کی قیمت بار بار وصول کرتے ہیں۔مثلاً وہ باہر والوں کو کہتے ہیں کہ تمہیں ایک پونڈ کے بدلے پانچ روبل ملیں گے لیکن انہی کو یہ کہتے ہیں کہ تمہیں پانچ سو روبل کے بدلہ میں ایک پاؤنڈ ملے گا۔اور اصل قیمت اس کی مثلا دو سو روبل ملتی ہے