خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 465

۴۶۵ (۴۳) (فرموده ۳- جون ۱۹۵۴ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسی تقریبوں کا نام جو کہ انسان کے لئے خوشی کا موجب ہوتی ہیں اپنے ایک نبی مسیح ناصری علیہ السلام کے ذریعہ سے عید رکھوایا ہے ، اور اس آیت سے استدلال کر کے مسلمانوں کی ان تقریبوں کا نام بھی عید رکھ دیا گیا ہے۔در حقیقت عید کا مادہ عود ہے کہ اور اس نام میں یہ حکمت رکھی گئی ہے کہ اس قسم کی تقریبیں بار بار آئیں۔عربی زبان خدائی زبان ہے اگر چہ یہ انسانوں کی بنائی ہوئی ہے لیکن اس کی بناء اللی تصرف کے ماتحت ہے۔عید کا لفظ عربی زبان کا ہے اور اس نام میں یہ حکمت ہے کہ جب کوئی چیز انسان کے لئے خوشی اور لذت کا موجب ہوتی ہے تو اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ اسے پھر بھی ملے۔پرانے زمانہ کا جو لٹریچر ہے وہ اکثر کہانیوں میں ہے۔بچوں کو ایک کتاب پڑھائی جاتی ہے اس میں ایک کہانی کا عنوان ہے میں نے ایک دفعہ دیکھا ہے دوسری دفعہ دیکھنے کی مجھے خواہش ہے۔یعنی اگر کوئی انسان ایسی چیز دیکھے جو اس نے لئے خوشی کا موجب ہو تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اسے پھر بھی دیکھے۔اس لحاظ سے عید کا نام عید رکھا گیا ہے تاکہ یہ موقع اسے پھر بھی ملے۔پس عید کا لفظ ایک تو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس میں ایسا لطف لذت اور سرور ہے کہ انسان اس کا تکرار چاہتا ہے۔دوسرے اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ انسانوں پر بار بار لطف کرے اور انہیں خوشی کے مواقع بہم پہنچائے۔اگر انسان اسے رد کر دے تو یہ اس کا اپنا ہے ویسے خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر بار بار فضل کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا۔إِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِين ٣ کہ بیمار میں ہوتا ہوں اور شفا مجھے اللہ تعالٰی دیتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت آتی ہے اور بندے کی طرف سے اس کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے زحمت آتی ہے اس کی طرف خدا تعالیٰ نے ایک اور جگہ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شي کے میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے میں اپنے بندوں کو رحمت ہی رحمت دینا چاہتا ہوں لیکن