خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 464

۴۲۴ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اس کا گھوڑا مر گیا ہے۔اس نے کہا کیا میں نے مرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم میں سے کسی نے بادشاہ کو خبر نہ دی تو وہ سب کو پھانسی دے دے گا لیکن تم اس کے چہیتے نوکر ہو اگر تم جاؤ تو شاید اسے تم پر رحم آجائے اور وہ یہ سزا معاف کر دے۔اس نے کہا اچھا میں جاتا ہوں۔چنانچہ وہ بادشاہ کے پاس گیا بادشاہ نے اس سے دریافت کیا کہ گھوڑے کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا حضور گھوڑے کو اب بالکل آرام ہے، وہ بالکل خاموش پڑا ہے، وہ اب کوئی حرکت نہیں کرتا نہ کان ہلاتا ہے نہ دم ہلاتا ہے نہ چھینیں مارتا ہے، نہ سانس لیتا ہے۔بادشاہ نے کہا اس کا تو یہ مطلب ہے کہ گھوڑا مرگیا ہے۔اس نے کہا حضور میں نے نہیں کہا کہ گھوڑا مر گیا ہے آپ نے خود فرمایا ہے کہ گھوڑا مر گیا ہے۔ان لوگوں کا بھی یہی حال ہے۔یہ خود تو کہتے نہیں مجھ سے کہلوانا چاہتے ہیں تاکہ ان کی نیک نامی رہے۔مگر یہ طریق غلط ہے اگر تم مل کر کام کرو گے تو کچھ بنے گا۔اگر تم میں سے ہر ایک مخالف سمت میں رسہ کشی کرے گا تو کام نہیں چلے گا۔ممکن ہے کہ ہمیں سارا کام بند کرنا پڑے کیونکہ روپیہ ہو گا تو کام ہو گا ورنہ ہمارا کیا ہے۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام والا کام شروع کر دیں گے کہ کوئی مہمان آ گیا تو آپ نے گھر سے کھانا کھلا دیا پانچ سات آدمی رکھ لئے جو خطوں کا جواب دیتے رہے اور اس قدر اخراجات ضرور مہیا ہو جائیں گے۔نہ ناظر رہیں گے اور نہ کلرک۔جب جماعت کے لوگ ہمیں کام کرتا ہوا دیکھیں گے تو وہ اس سے زیادہ روپیہ میرے ہاتھوں میں رکھ دیں گے۔مجھے مانگنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔پس تم کوئی صحیح ذریعہ اختیار کرو ورنہ یاد رکھو تم (الفضل ۲۳ جولائی ۱۹۵۲ء) پچھتاؤ گے ، پچھتاؤ گے ، پچھتاؤ گے۔هـ آل عمران : ۱۲۴ تا ۱۲۸ : الانفال: ۱۰ تا ۱۸ تاریخ کامل لابن اثیر جلد ۲ صفحه ۵۴ تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۴۶۳ السيرة لامام ابن ہشام الجزء الثاني صفحه ۴۶-۴۷ الاعراف: ۱۱۲ تا ۶۱۱۹ ه ۶۷ تا ۷۰ الشعراء :۴۶۳۷ یونس : ۳۲ - النمل : ۶۵- سبا : ۲۵- فاطر : ۴۴ سبا: ۲۵ سید محمود اللہ شاہ صاحب ابن حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب۔حضور کے برادر نسبتی تھے۔(۱۸۹۸ء۔۱۹۵۲ء)