خطبات محمود (جلد 1) — Page 218
۲۱۸ پوچھو۔اس نے کہا سنا ہے مرزا صاحب بادام روغن اور پلاؤ بھی کھا لیتے ہیں۔آپ فرماتے میں نے کہا ہمارے ہاں حلال ہے۔کہنے لگا کیا خدا رسیدہ لوگوں کے لئے بھی حلال ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ہمارے ہاں ان کے لئے بھی حلال ہے۔تو نادان انسان کئی چیزوں پر اعتراض کرتا ہے اور کئی دفعہ دوست بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ احتیاط نہیں کی جاتی۔یہ محبت کے اعتراض ہوتے ہیں۔کہا جاتا ہے یوں پہرہ کا انتظام نہیں ہوتا اس طرح نگرانی نہیں کی جاتی۔اس میں شک نہیں کہ دنیوی سامان بھی چاہئیں لیکن جو انسان ایسا ہو جائے کہ اس کی موت و حیات سب خدا کے لئے ہو اس کا حافظ خود اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے ایسی صورت میں اگر خدا موت لاتا ہے تو وہ بھی اس انسان کی حفاظت کے لئے ہی ہوتی ہے اور جب خدا تعالٰی پسند کرے کہ فلاں بندے پر موت آ جائے تو پھر اس رنگ کی موت زندگی سے اچھی ہوگی۔ہاں خدا تعالیٰ کے ظاہری قانون کا احترام قائم رکھنے کے لئے حکم ہے کہ ظاہری سامان بھی کرو تا لوگ تو کل سے محروم نہ ہو جائیں۔توکل کا لفظ سن کر شاید بعض لوگ حیران ہوں لیکن میں جو تو گل کے معنی کرتا ہوں وہ عوام الناس سے مختلف ہیں۔میں نے کچھ دن ہوئے اسی رمضان میں ایک رؤیا دیکھا کہ ایک بڑا ہجوم ہے ایسا ہی جیسا کہ اب آپ لوگ بیٹھے ہیں میں اس میں بیٹھا ہوں اور ایک دو غیر احمدی بھی میرے پاس بیٹھے ہیں۔کچھ لوگ مجھے دبا رہے ہیں ان میں سے ایک شخص جو سامنے کی طرف بیٹھا تھا اس نے آہستہ آہستہ میرا ازار بند پکڑ کر گرہ کھولنی چاہی۔میں نے سمجھا اس کا ہاتھ اتفاقاً جالگا ہے اور میں نے ازار بند پکڑ کر اس کی جگہ پر انکا دیا۔پھر دوبارہ اس نے ایسی ہی حرکت کی اور میں نے پھر بھی یہی سمجھا کہ اتفاقیہ اس سے ایسا ہوا ہے اور پھر ازار بند اڑس لیا۔تیسری دفعہ پھر اس نے ایسا ہی کیا تب مجھے اس کی بدنیتی کے متعلق شبہ ہوا اور میں نے اسے روکا نہیں جب تک کہ میں نے دیکھ نہ لیا کہ بالا رادہ ایسا کر رہا ہے تاکہ جب میں کھڑا ہوں تو نگا ہو جاؤں اور لوگوں میں میری سبکی ہو۔اس پر میں نے اسے ڈانٹا اور کہا تو جانتا نہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے عبد القادر بنایا ہے اور کہا کوئی ہے؟ اس پر معلوم ہوا کہ ہجوم میں بھی بعض اس کے ساتھی ہیں جو حملہ آوار ہونا چاہتے ہیں لیکن جب میں نے کہا کہ کوئی ہے تو دو نوجوان لڑکے جن کے ابھی داڑھی نہیں اگی تھی آگے بڑھے میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں؟ انہوں نے ہاتھ کے اشارہ سے کہا۔ہٹ جاؤ۔اور ایسا معلوم ہوا گویا سب کو گرفتار کر کے ایک طرف کھڑا کر دیا گیا ہے۔مجھے خیال ہوا کہ کہیں یہ غیر احمدی یہ نہ سمجھیں کہ میں نے اس شخص کو یونہی ڈانٹا