خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 217

۲۱۷ حکم سے کھاتا ہے اور خدا کے حکم سے جو کچھ کھایا جائے وہ ایسی ہی عبادت ہے جیسے نماز اور روزہ۔اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بیمار روزہ کے دنوں میں کھائے۔رمضان میں دن کو کھانا پینا گناہ ہے مگر بیمار چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کھاتا ہے اللہ اس لئے اس کے لئے ثواب کا موجب ہے وہ تو بیماری کے باوجود روزہ رکھنے کو تیار تھا اور اس بات پر بالکل آمادہ تھا کہ خدا کی راہ میں بھوکا رہ کر جان تک دے دے۔مگر اللہ تعالیٰ نے چونکہ اسے حکم دیا کہ کھا“ اس لئے کھاتا ہے اور اس لئے اس کا کھانا بھی ثواب کا موجب ہوتا ہے وہ خواہ تمام قسم کی مرغن غذا ئیں کھائے اسے ثواب ہی ہو گا۔یہ حالت تو عوام کی ہے مگر خواص پر خاص اوقات میں بھی اللہ تعالیٰ یہی حالت دارد کرتا ہے۔میں پہلے بھی کئی بار سنا چکا ہوں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سخت کھانسی میں مبتلاء ہوئے۔ایسی شدید کھانسی تھی کہ اخباروں میں اس کا ذکر پڑھ کر عبدالحکیم نے لکھ دیا کہ آپ رسل سے فوت ہوں گے۔۲۲ ان دنوں چونکہ میری ڈیوٹی آپ کو دوا پلانے کی تھی اس لئے میں بھی اپنے آپ کو نصف ڈاکٹر سمجھتا تھا۔ایک دن کہیں سے پھل آیا۔آپ نے دریافت فرمایا کیا پھل ہے؟ میں نے بتایا کیلا ہے سنگترہ ہے۔آپ نے فرمایا۔قریب کرو، میں نے قریب تو کر دیا کیونکہ حکم تھا مگر عرض کیا کیلا کھانا آپ کے لئے مضر ہو گا۔آپ مسکراتے جاتے اور کھاتے جاتے میں اپنے دل میں کڑھ رہا تھا کہ تکلیف بڑھا جائے گی۔آخر آپ نے فرمایا مجھے ابھی الہام ہوا ہے کھانسی دور ہو گئی جو چاہو کھاؤ۔۲۳ میں اپنی جہالت کی وجہ سے کڑھ رہا تھا مگر آپ اپنے علم کے مطابق ہنس رہے تھے کہ خدا تعالی کا حکم پورا کر رہا ہوں۔ایسی حالت میں پیچھے ہٹنا گناہ ہوتا ہے۔بہت سے نادان ایسے لوگوں پر اعتراض بھی کر بیٹھتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ وہ مکان جو مسجد اقصیٰ کے قریب ہے اور جس میں اب خدا کے فضل سے ہمارے دفاتر ہیں یہ ایک ہندو ڈپٹی نے بنایا تھا۔جب یہ اونچا بنا تو لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ اس طرح آپ کے مکانوں کی بے پردگی ہوگی۔آپ نے فرمایا کوئی فکر کی بات نہیں بادشاہ کے مکان کے پاس جو مکان بنایا جاتا ہے وہ آخر شاہی کیمپ میں ہی داخل ہو جاتا ہے۔آخر مکان بنانے والا مر گیا اس کی اولاد بھی تباہ ہو گئی اور مکان ہمارے پاس فروخت ہو گیا۔۲۴۔وہ ڈپٹی صاحب ایک دن مکان کے باہر بیٹھے تھے کہ حضرت خلیفہ اول درس دے کر آ رہے تھے۔اس نے کہا مولوی صاحب آپ سے میں ایک بات پوچھنی چاہتا ہوں اگر آپ ناراض نہ ہوں۔آپ نے فرمایا