خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 219

۲۱۹ ہے۔اس پر میں انہیں کہتا ہوں اس نے پہلے بھی دو بار ایسا کیا مگر میں نے حُسن ظنی سے کام لیا اور تیسری دفعہ معلوم کیا کہ اس کا منشاء یہ ہے کہ مجھے نگا کرنا چاہتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ میں کون ہوں۔تب اسی وقت رویا میں ہی میرے دل میں ڈالا گیا کہ عبد القادر سے مراد یہ ہے کہ بندہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کے سب کام اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جاتے ہیں اور کوئی خواہ کتنا طاقتور کیوں نہ ہو اس پر حملہ نہیں کر سکتا۔حملہ ہمیشہ کمزوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے مگر جس کا کھانا پینا پہننا بھی عبادت ہو جائے اس پر حملہ کرنا خدا پر حملہ کرنا ہوتا ہے۔تو بہت سے دوست ہیں جو لکھتے رہتے ہیں یوں حفاظت ہونی چاہئے یوں پہرے ہونے چاہئیں اور ہم انتظام کرتے بھی ہیں مگر صرف خدا تعالیٰ کا حکم پورا کرنے کے لئے وگرنہ اگر ہماری حفاظت کا حصر سامانوں پر ہو تا تو اللہ تعالٰی ہمیں کثرت کے ساتھ سامان بھی عطا کر تا لیکن جب سامانوں کے لحاظ سے ہماری یہ حالت ہے کہ عید کے دن بھی ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جنہیں پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملا ہو گا اور اس لحاظ سے عید کے دن بھی ان کا روزہ ہی ہے تو اس کے معنی یہی ہیں کہ وہ سامانوں سے کام لینے کا حکم دینے کے باوجود بغیر سامانوں کے ہماری حفاظت کرنا چاہتا ہے۔اور اس کا منشاء یہی ہے کہ اس کے فرشتے خود ہمارا کام کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جہاں عبد القادر قرار دیا گیا ہے۔۲۵ وہاں یہ بھی کہا گیا ہے کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ ، یعنی تیری مدد کے لئے ہم لوگوں کو اٹھا ئیں گے اور بذریعہ وحی انہیں تحریک کریں گے اور یہی معنی عبد القادر کے ہیں جو چیز بھی آپ کے پاس آئی وہ گویا خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش کی جاتی تھی کیونکہ خدا ہی اس کے لئے لوگوں کو تحریک کرتا اور وحی کے ماتحت آتی تھی۔تو جو بات سید عبد القادر کو کبھی کبھی میسر آتی تھی وہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کو ہر روز حاصل تھی اور ہر تحفہ میں خواہ وہ کسی نوعیت کا ہو تا موجود ہوتی تھی۔کیونکہ يَنْصُرُک کے معنی یہ ہیں کہ جتنے تیری مدد کرنے والے ہوں گے ہم انہیں وحی کریں گے اسی کیفیت کا نقشہ عید ہے۔اللہ تعالٰی نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ کسی نعمت سے محروم رہے اس لئے وہی چیز جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ساری عمر حاصل رہی جو سید عبد القادر رحمہ اللہ علیہ کو کبھی کبھی حاصل ہوتی تھی وہ سال میں ایک دفعہ ہر مومن کو مل جاتی ہے اور آج کے دن ادنی مومن بھی سید عبد القادر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا اس بات میں مثیل ہو جاتا ہے البتہ اتنا ہی فرق ہے کہ جتنا شاہی دعوت میں خاص اور