خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 196

· 194 (۲۱) فرموده ۹ - فروری ۱۹۳۲ء بمقام عید گاہ۔قادیان) - انسان عادات اور جذبات کا ایک مجموعہ ہے اس کے کام یا تو جذبات کے ماتحت ہوتے ہیں اور یا عادات کے ماتحت ہوتے ہیں۔عقل بھی بے شک انسان کے کاموں میں ایک حد تک حصہ رکھتی ہے لیکن وہ حصہ اتنا محدود ہے کہ اگر ہم محض کتابی علم النفس پر اپنے خیالات کی بنیاد نہ رکھیں بلکہ غور اور فکر سے کام لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ در حقیقت عقل جو ہے وہ کسی نہ کسی ساتھی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔یا تو وہ جذبات سے ملکر کام کرتی ہے یا عادات سے مل ر علیحدہ کام اس کا بہت ہی کم ہوتا ہے اتنا کم کہ ہم اسے گنتی میں نہیں لا سکتے۔تم صبح سے شام تک جو کام کرتے ہو انہیں دیکھ لو تمہیں یہی نظر آئے گا کہ یا تو تمہارے کاموں کا اکثر عادتوں کا نتیجہ ہو گا اور یا وہ جذبات کا نتیجہ۔حرص کی وجہ سے طمع کی وجہ سے، غصہ کی وجہ سے محبت کی وجہ سے وفاداری کی وجہ سے ، طبعی میلان کی وجہ سے ، غرض تمام ایسی باتوں کی وجہ سے وہ کام ہوں گے جو جذبات کے تابع ہیں۔- حصہ پس اس امر کے سبب سے کہ انسان جذبات و عادات کے تابع ہوتا ہے بہت سے لوگ اپنے کاموں کی علت اور ان کے مقصد پر نگاہ نہیں رکھتے۔وہ کام تو کرتے ہیں مگر غور نہیں کرتے کہ وہ کس لئے کرتے ہیں کیونکہ در حقیقت وہ بے اختیار ہو کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔عید کے متعلق بھی ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جو در حقیقت ایک عادت کے مطابق عید مناتے ہیں۔یہی نہیں کہ وہ اپنے ماں باپ کی طرف سے ایک عادت لئے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ مذہب کی بھی ایک عادت ہوتی ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ خدا اور اس کے رسول نے ایسا کیا ہے اس لئے ہم اس طرح کرتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ حقیقت اور اصلیت سے ناواقف ہو کر عادتا ان امور کو کرنے لگ جاتے ہیں۔وہ نہا دھو کر اور اچھے کپڑے پہن کر عید گاہ میں پہنچ جاتے ہیں لیکن کبھی عید کی علت غائی پر غور نہیں کرتے اور وہ کبھی اس امر کے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ عید کیا چیز ہے؟ اس کے فوائد کیا ہیں اور آیا جب ہم عید منا