خطبات محمود (جلد 1) — Page 197
194 رہے ہوتے ہیں اس وقت ہماری عید ہوتی بھی ہے یا نہیں۔میں آج اختصار کے ساتھ کیونکہ میں دیر سے پہنچ سکا ہوں بسبب اس کے کہ رات سے مجھے اسہال کی تکلیف ہو گئی تھی اور اس وجہ سے مجھے صبح کے بعد بھی لیٹنا پڑا اور تہجد کے وقت سے کئی دفعہ پیٹ میں درد بھی ہوا اور اسمال بھی ہوئے۔تو وقت چونکہ زیادہ ہو گیا ہے اس لئے اختصار کے ساتھ میں بتاتا ہوں کہ آج کئی قسم کے لوگ ہمارے اندر موجود ہیں لیکن وہ اپنی اقسام کو سمجھتے نہیں۔وہ مختلف اقسام کے ہیں لیکن باوجود اس کے انہیں معلوم نہیں کہ ہماری کئی قسمیں ہیں۔یہ عجیب فرق ہے۔قو میں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ایک ظاہری قومیں ہوتی ہیں اور ایک باطنی۔یعنی بعض قومیں لوگوں کے ظاہر اور بیرونی امور کی وجہ سے ہوتی ہیں اور بعض باطنی خیالات کی وجہ سے۔ظاہر کے لحاظ سے جو قومیں ہوتی ہیں ان کا تو لوگوں کو علم ہوتا ہے۔مثلاً کوئی کہتا ہے میں راجپوت ہوں، کوئی کہتا ہے میں پٹھان ہوں ، کوئی کہتا ہے میں سید ہوں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ظاہری قوموں کے متعلق تو لوگ مدعی ہوتے ہیں کہ ہم فلاں قوم کے ہیں لیکن باطنی قوم کے متعلق ان کے دل میں کبھی خیال پیدا نہیں ہوتا اور وہ کبھی نہیں جانتے کہ ہم کس قوم کے ہیں اور نہ کبھی کوشش کرتے ہیں کہ پتہ لگے وہ کس قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن جس طرح انسانوں کی ظاہری قومیں ہیں اسی طرح ان کی باطنی قومیں بھی ہیں۔ان باطنی اقوام میں سے جو قومیں عید سے متعلق ہیں میں اس وقت ان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔عید دراصل خوشی کا نام ہے اور خوشی تبھی ہوتی ہے جب انسان کامیاب ہو کیونکہ در حقیقت کامیابی سے ہی حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے ورنہ نا کام انسان کبھی خوش نہیں ہو سکتا بلکہ وہ اپنی ناکامی پر روتا پیٹتا ہے۔پس جب ہم میں سے کوئی شخص عید مناتا ہے تو دراصل وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ میں کامیاب ہو گیا۔اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ کیا واقعہ میں ہم میں سے ہر شخص کامیاب ہو گیا اور کیا واقعہ میں اس کامیابی کی وجہ سے اسے حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ عید منائے۔ایک تو ظاہری عید ہے کہ دنوں میں سے ایک دن اپنے لئے خوشی کا قرار دے لیا جائے جس دن اچھا کھانا کھانا اور اچھا کپڑا پہننا چاہئے اس کو تو جانے دو کہ یہ عید تو کوئی قیمت ہی نہیں رکھتی کیونکہ اس پر ہمیں کچھ نہ کچھ خرچ ہی کرنا پڑتا ہے اگر اور کچھ نہ ہو تو غریب لوگ سویاں ہی پکا کر کھا لیتے ہیں