خطبات محمود (جلد 1) — Page 149
۱۴۹ : باتیں سنتے نہیں۔اگر لوگ ہماری باتیں سننے کے لئے تیار نہیں تو پھر خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیوں کیا ہے کہ وہ ساری دنیا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں پر لا کر ڈال دے گا۔۳۶، خدا تعالی زیادہ جانتا ہے یا تم۔جب خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا ہے تو معلوم ہوا دنیا حضرت مسیح موعود کی تعلیم کو مانے کے لئے تیار ہے۔پس تم لوگ مایوسیوں اور ناامیدیوں کو اپنے دلوں سے نکال دو۔تمہارے لئے اور صرف تمہارے لئے عید کا دن مقرر ہو چکا۔پھر کیا کوئی عید مناتے ہوئے بھی رویا کرتا ہے۔دوسری قوموں کے لئے عید نہیں وہ جتنا ماتم کریں کر سکتی ہیں مگر تمہارے لئے خوشی کا دن ہے تمہیں عید منانی چاہئے۔رسول کریم می کریم نے فرمایا ہے جو شخص عید کے دن روزہ رکھتا ہے وہ شیطان ہے۔۳۷، اس کے یہی معنی ہیں کہ جو عید نہیں مناتا وہ شیطان ہے۔جب خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے خوشیوں کی گھڑیاں رکھی ہیں اور کامیابی کے وعدے دیئے ہیں تو پھر جو نا امید ہوتا ہے وہ شیطان بنتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں تم مایوسیوں اور نا امیدیوں کو اپنے دل سے نکال دو کیونکہ خداوند خدا جس کے ہاتھ میں سب دنیا ہے وہ کہتا ہے کہ تمہیں دنیا میں بڑھائے گا اور تباہ ہونے سے بچائے گا۔۳۸، کیا تمہارے خیال بچے ہیں، یا خدا تعالیٰ کے وعدے بچے ہیں بے شک تمہاری غفلت ، سستی اور کو تاہی سے کامیابی کے حاصل ہونے میں دیر ہو سکتی ہے اس میں التوا ہو سکتا ہے مگر وہ دن وہ کامیابی اور کامرانی کا دن جو تمہارے لئے مقدر ہو چکا ہے ہمیشہ کے لئے پیچھے نہیں ڈالا جا سکتا۔وہ ایک دن کے لئے دو ن کیلئے پیچھے ڈالا جا سکتا ہے ہمیشہ کیلئے نہیں کیونکہ اگر وہ دن نہ چڑھے تو خدا تعالیٰ کے وعدے جھوٹے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں غلط ہوں گی مگر ہم جھوٹے ہو سکتے ہیں، ہمارے علم جھوٹے ہو سکتے ہیں، ہمارا عرفان ہمارا تجربہ جھوٹا ہو سکتا ہے مگر خدا اور خدا کا رسول جھوٹا نہیں ہو سکتا۔دنیا کی ہر چیز جھوٹی ہو سکتی ہے ہمارے اپنے وجود وہم ہو سکتے ہیں مگر خدا کے وعدے کبھی جھوٹے نہیں ہو سکتے۔پس میرے دوستو اُٹھو اور خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے جو عید بنائی ہے اسے مناؤ۔یہ بھی عید ہے جو آج منائی جارہی ہے مگر اس کے مقابلہ میں وہ بہت بڑی عید ہے جو خدا نے تمہارے لئے رکھی ہے۔دیکھو، پیتل، تانبے کے زیور بھی ہوتے ہیں اور انہیں مال سمجھا جاتا ہے مگر سونے کے زیوروں کے مقابلہ میں انہیں جھوٹے زیور کہتے ہیں حالانکہ وہ مفت نہیں ملتے ان کی بھی قیمت ہوتی ہے اسی طرح یہ عید بھی بے شک عید ہے مگر اصل عید کے مقابلہ میں ایک