خطبات محمود (جلد 1) — Page 148
۱۴۸ ہمیشہ کی عید ہو۔آج کی عید تو صبح آئی اور شام کو چلی جائے گی مگر دوسری عید ہمیشہ ہمیش رہتی ہے اور اس کا انسان کی موت سے بھی خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں اور ترقی ہو جاتی اور اس کی خوبیاں بڑھ جاتی ہیں۔اس عید کا مزا ہماری جماعت کے کئی لوگوں نے چکھا ہے اور ان کو بطور نمونہ خدا تعالیٰ نے پیدا کیا۔مثلاً حضرت خلیفہ اول تھے آپ کے متعلق الہام میں خدا تعالیٰ نے بتایا۔چہ خوش بودے اگر ہر یک زائت نور دیں بودے ۳۴ آپ کا نام نور دین تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے واقعہ میں آپ کو نور دین بنا دیا۔اسی طرح ہماری جماعت کے کئی اور لوگوں نے اپنی جانیں دے کر بتا دیا کہ دین کے مقابلہ میں دنیا کی انہیں کوئی پروا نہیں ہے۔پانچ نے تو یہ ثبوت پیش کر دیا۔۳۵ مگر یہی نہیں کہ یہ پانچ ہی ایسے تھے۔ان کو موقع مل گیا اور انہوں نے ایسا کیا۔ورنہ ہزاروں ایسے انسان موجود ہیں کہ اگر انہیں موقع ملے تو پہلوں سے بھی بڑھ کر نمونہ دکھائیں گے مگر یہ خدا تعالیٰ کی دین ہے جس کو چاہے چن لیتا ہے۔پس سب لوگوں کو چاہئے کہ بچی عید کے لئے کوشش کریں تا دنیا جو سمجھتی ہے کہ ہم مر رہے ہیں پس رہے ہیں دیکھ لے کہ ہم زندہ ہیں اور کامیابی کا دروازہ صرف ہمارے لئے کھلا ہے۔در حقیقت اگر زندگی کی مستحق ہے تو ہماری ہی جماعت ہے اور مرنے اور مٹنے کے مستحق سرے لوگ ہیں۔دیکھو موت اس کے لئے ہوتی ہے جو جنگل میں پڑا ہو اور اس کے قریب کہیں پانی نہ ہو۔لیکن جو چشمہ کے کنارے بیٹھا ہو وہ پیاس سے نہیں مرسکتا۔اگر ہم میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے چشمہ سے پانی نہیں پیا تو چشمہ تو ان کے پاس ہے۔جب ہاتھ بڑھا ئیں گے چشمہ سے سیراب ہو جائیں گے مگر جن کے پاس چشمہ ہی نہیں وہ کیا کر سکتے ہیں۔پس ہمارے لئے صرف ہاتھ بڑھانے کی دیر ہے خدا تعالیٰ کا فضل ہمارے لئے آسکتا ہے۔بچی کامیابی ہمارے لئے مقدر ہے۔آگے تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے۔وہ دشمن ہم پر کیا ہنس سکتا ہے جو خود شراب پر بیٹھا ہے۔کیا سُراب پر بیٹھنے والے کا حق ہے کہ چشمہ پر بیٹھنے والے پر ہے۔اس کے لئے تو رونے کا مقام ہے کیونکہ وہ شراب پر بیٹھا ہوا سمجھتا ہے کہ پانی اس کے کنارے بیٹھا ہے حالانکہ وہ پانی نہیں ہے۔پس دوستوں کو ہر قسم کی مایوسیوں اور نا امیدیوں کو دل سے نکال دینا چاہئے۔میں ان لوگوں کی عقل پر حیران ہو تا ہوں جو کہتے ہیں لوگ ہماری