خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 241

احلام السلام اٹھا کر پھینک دے گا۔مگر ماں ساری رات اسے بہلانے کی کوشش کرتی رہے گی اور ذرا نہیں گھبرائے گی۔یہ عورت کا کیریکٹر ہے یہ بات اگر مرد میں پیدا ہو جائے تو وہ دنیا کی کایا پلٹ سکتا ہے۔اس جوش کے ساتھ جو پہلے ہی اس کی فطرت میں ہوتا ہے اور جو عورت میں موجود نہیں ہو تا۔اگر اس کے اندر عورت والا استقلال پیدا ہو جائے تو وہ دنیا کو کھا جائے۔اور جو انسان اپنے اندر مرد و عورت دونوں کی خوبیاں رکھتے ہیں وہ واقعی دنیا کو کھا جاتے ہیں۔نادان اور جاہل لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب مرد بھی تھے اور عورت بھی لیکن انہیں معلوم نہیں کہ یہ دونوں صفات اپنے اندر پیدا کئے بغیر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔عورت کی سی محبت اور استقلال اور مرد کی سی دلیری اور اقدام جب یہ صفات جمع ہو جائیں تب ہی غلبہ حاصل ہو سکتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام سب کو جمع کرنا چاہتا ہے۔اسلام عورت سے کہتا ہے کہ بُزدل نہ بن اور اقدام کر اور مرد سے کہتا ہے کہ استقلال، محبت اور قربانی سیکھ۔جب عورت اپنے اندر اقدام اور دلیری پیدا کرے تو وہ مرد بن جاتی ہے اور استقلال ، محبت ، قربانی پیدا کرنے کے بعد مرد عورت بن جاتا ہے۔تب وہ دونوں ایک مقام پر آ جاتے ہیں اور اسی حالت میں مساوات قائم ہو سکتی ہے۔یہی حال امیر و غریب کا ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ امیروں کی دولت چھین کر غریبوں کو دے دو یا غریب کی گردن امیر کے قبضہ میں بلکہ وہ کچھ امیر کو نیچے کرتا ہے اور کچھ غریب کو اوپر۔میں نے بتایا ہے کہ حقیقی مساوات دل سے تعلق رکھتی ہے اور یہی چیز ہے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔اسلام ظاہری مساوات کا قائل نہیں اس لئے وہ چاہتا ہے کہ جس کے پاس دولت ہو اس کے دل میں امارت ہونی چاہئے کیونکہ جو ظاہر کا بھی غریب ہو اور دل کا بھی غریب ہو ، وہ دنیا میں کوئی کام نہیں کر سکتا۔کام کرنے والا وہی امیر ہے جو دل کا غریب ہو اور وہی غریب ہے جو دل کا امیر ہو۔یہ حالت پیدا ہونے پر ہی قومیں ترقی کر سکتی ہیں۔پاس دولت اور مال نہیں مگر وہ کہتے ہیں کیا پروا ہے سب دنیا کے اموال ہمارے ہی ہیں۔یا اگر دولت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ دولت کا کیا ہے یہ آئی گئی چیز ہے اور یہ ہمیں اس لئے دی گئی ہے کہ نیکی پیدا کریں اور جب یہ احساس پیدا ہو جائے تو امیر غریب ہو جاتا ہے اور غریب امیر غریب ساری دنیا کی دولت کو اپنی سمجھتا ہے اور امیر اپنی کو بھی اپنی نہیں سمجھتا اور اس طرح وہ دونوں ایک مقام پر جمع ہو جاتے ہیں اور یہی وقت حقیقی عید کا ہوتا ہے۔پس حقیقی عید حقیقی مساوات سے پیدا ہوتی ہے اور حقیقی مساوات دے دو۔