خطبات محمود (جلد 1) — Page 242
1 موم ۲ سوائے اسلام کے اور کہیں نہیں۔اور اسے سوائے انبیاء کے اور کوئی قائم نہیں کر سکتا۔امتیازات کو صرف اسلام ہی دور کر سکتا ہے اور اسلام ہی سب کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ایک طرف وہ عالموں کو جاہل بناتا ہے۔وہ کہتا ہے علم سیکھو کلاء اور جب سیکھ لیا تو کہتا ہے کہ علم ہی سب سے بڑی مصیبت ہے۔علم کیا ہے ایک اندھیرے سے دوسرے اندھیرے میں جانے کا نام علم ہے۔جس نے یہ دریافت کیا کہ پانی مرکب ہے مگر کیا اس سے حقیقت ہم پر ظاہر ہو گئی۔اب بھی ہمارے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ کیا وہ گیسیں اپنی اپنی جگہ پر مفرد ہیں یا مرکب۔پس ہم صرف ایک اندھیرے سے نکل کر دوسرے اندھیرے میں چلے گئے ہیں۔یا مثلاً پہلے صرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ سات سیارے اور آسمان اور زمین ہے مگر اب کہتے ہیں ہزاروں سیارے ہیں مگر پھر بھی کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ جتنے اس نے معلوم کر لئے ہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں۔تو اس طرح وہ ایک اندھیرے سے دوسرے اندھیرے میں چلے گئے اور یہی وہ چیز ہے جسے علم کہا جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں جہالت ہے۔ایک شخص اگر پڑھا ہوا نہیں لیکن وہ اپنے دل و دماغ کو استعمال کرتا اور سمجھتا ہے کہ مجھے اللہ تعالٰی نے طاقتیں دی ہیں اور مجھے ان کو استعمال کرنا چاہئے تو وہ عالم ہے۔رسول کریم میں لی لی لی اور ظاہری علوم کا ایک لفظ بھی نہ پڑھے ہوئے تھے مگر کون ہے جو آپ سے زیادہ علم رکھنے والا ہو۔پس جہالت اور علم دونوں نفس سے پیدا ہوتی ہیں۔علم جہالت پیدا کرتا ہے اور جہالت سے علم حاصل ہوتا ہے۔میں ایک دفعہ بعض اور ساتھیوں سمیت دریا پر سیر کرنے کے لئے گیا ہوا تھا لوٹتے ہوئے رات ہو گئی اور رات بھی تاریک تھی۔ایک جگہ ہم سطح زمین سے کوئی دس فٹ اونچے جا رہے تھے اور نیچے بہت گہرے گڑھے تھے۔ہمارے آگے آگے گاؤں کے ایک نوجوان دوست تھے جو بوجہ اپنے آپ کو مقامی آدمی سمجھنے کے تیز تیز آگے جا رہے تھے اور راستہ جسے ہم کھو چکے تھے اس کی تلاش میں تھے۔ایک جگہ جا کر انہوں نے آواز دی کہ میرے پیچھے آجائے میں نے رستہ تلاش کر لیا ہے اور یہ فقرہ کہنے کے ساتھ ہی نظروں سے غائب ہو گئے اور صرف ایک دھماکے کی آواز آئی۔آخر معلوم ہوا کہ جسے وہ رستہ سمجھے تھے دریا کی چمکتی ہوئی ریت تھی اور جسے وہ سات آٹھ فٹ اونچے کنارہ سے دیکھ رہے تھے چنانچہ قدم رکھتے ہی وہ نیچے جا پڑے۔ہم لوگ دو میل سے آ رہے تھے مگر چونکہ خیال تھا کہ رستہ سے ناواقف ہیں اس لئے ٹول ٹول کر قدم رکھتے تھے لیکن وہ چونکہ اپنے آپ کو واقف سمجھتے تھے اس لئے زیادہ محتاط نہ تھے اور اسی وجہ۔