خطبات محمود (جلد 1) — Page 65
۶۵ نہیں۔یہ تو در حقیقت ایک نشان ہے یا جھوٹی خوشی۔جیسا کہ جب بچہ کی ماں اس سے جدا ہو جائے تو وہ روتا ہے اور اس کو بہلانے کے لئے اس کے ہاتھ میں کھلونا دے دیتے ہیں جس سے وہ عارضی طور پر بہل جاتا ہے لیکن پھر رونا شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح یہ عید چونکہ اصل عید نہیں اس سے عارضی اور آنی طور پر انسان خوش ہو جاتا ہے لیکن پھر اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اصل چیز تو اس کو حاصل نہیں ہوئی۔پھر لوگ ایک سال کے بعد جمع ہوتے ہیں اور دل بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس سے ایک دن یا ایک گھنٹہ یا چند گھنٹہ کے لئے خوش ہو جاتے ہیں اور پھر ان کو افسوس ہوتا ہے۔دراصل اگر صحیح راستہ پر نہ چلا جائے تو راحت میسر نہیں : سکتی۔۔ہو اسلام نے تقاضہ فطرت کو پورا کرنے کے لئے دو عیدیں رکھی ہیں جو ہمارے ملک میں ایک بڑی عید اور ایک چھوٹی عید کے نام سے موسوم کی جاتی ہیں۔یعنی عید الفطر اور عید الاضحی۔ان دونوں عیدوں میں ایسی عبادتیں لگائی گئی ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے انسان خدا کو پالیتا ہے۔اور چونکہ حقیقی خوشی وہی ہے جس میں خدا مل جائے اور اسلام نے جو عید رکھی ہے اس میں خدا کو پانے کے گر بتائے ہیں۔اس لئے اس کے واسطے یہ خواہش کرنا بجا ہے کہ یہ دن بار بار لوٹ کر آئے۔یہ دن ہے جس میں حقیقی راحت کا نشان ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ تم اس راستہ پر چل کر خدا کو دیکھ لو گے اور جب تک وہ دن تم پر نہ آئے کہ تم خدا کو دیکھ لو اُس وقت تک تمہارے لئے کوئی عید کا دن نہیں ہو سکتا۔پس اسلام نے چونکہ ان عیدین کو حقیقی عید کا نشان رکھا ہے اس لئے ان سے ایک حد تک دل کو بچی راحت پہنچتی ہے اور ان سے خدا تعالی کے پانے کا پتہ چلتا ہے۔ہماری عید کیا ہے؟ یہ کہ ہمارا محبوب ہمارا خدا ہمیں مل جائے۔جو شخص کو شش کرتا اور برداشت کرتا ہے اس کو اس کا خدا مل جاتا ہے اور پھر ایسا آرام اور ایسی خوشی حاصل ہو جاتی ہے کہ جسے کوئی ہٹا نہیں سکتا۔دیکھو عید الفطر کے لئے اسلام نے ایک ماہ کے روزے فرض قرار دے کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جسمانی قربانی ضروری رکھی ہے۔ھے اور دوسری عید پر انسان ظاہری قربانی کرتا ہے جو کہ اس بہت بڑے انسان کے نمونہ کی یادگار میں ہوتی ہے جس نے خدا کے لئے اپنا بیٹا ذبح کرنا چاہا۔مگر خدا نے اس کی جگہ جانور ذبح کرا دیا۔کہ اور آئندہ کے لئے مقرر کر دیا کہ جانوروں کی قربانیاں کی جایا کریں۔تو اس عید پر