خطبات محمود (جلد 1) — Page 66
षष بکرے ذبح کرنا دلیل ہوتا ہے اس امر کے لئے کہ اس بندے کو جو قربانی کرتا ہے خدا کے رستہ میں اگر اپنا سر بھی دینا پڑے تو اس میں توقف نہیں کرے گا۔یہ اسلام کی مقرر کردہ عیدوں کی حقیقت ہے۔مگر اور لوگوں کی عیدیں اپنے اندر یہ حقیقت نہیں رکھتیں اس لئے ان میں جو خوشی منائی جاتی ہے وہ راحت بخش خوشی نہیں ہوتی کیونکہ ان کی عیدیں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسا کہ روتے ہوئے بچہ کو ایک کھلونا دے دیا جائے جس سے وہ تھوڑی دیر کے لئے بہل جائے۔یوں تو اسلام کی عیدیں بھی حقیقی اور اصلی خوشی حاصل کرنے کا نمونہ ہی ہیں۔لیکن دوسروں کی خوشی کے نمونہ اور ان میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ان کے میلے اور تہوار محض نمونہ ہی نمونہ ہیں جن کے بعد ان کے لئے حسرت و افسوس ہوتا ہے۔لیکن مسلمانوں کی عید ایسی ہوتی ہے کہ وہ چیز جس کی انسان کو تلاش ہے اس کے بہت قریب کر دیتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ ایک شخص کے محبوب کا مجسمہ بنا کر اس کے سامنے رکھ دیا جائے اور وہ اس کو لپٹ کر خوش ہو لے کہ میرا محبوب مجھ کو مل گیا لیکن ایک دوسرے شخص کو ایسے رستہ پر ڈال دیا تو جائے جس پر چل کر وہ اپنے محبوب تک پہنچ سکتا ہو اور پھر اس کو اس کے محبوب کے دروازے پر پہنچا دیا جائے اور پردہ اٹھا کر دکھا دیا جائے کہ وہ ہے تیرا محبوب۔اب اور کوشش کر اور اس کو دروازے سے گذر کر اپنے محبوب سے مل لے۔اب وہ شخص جس کے پاس صرف بے جان مجسمہ ہے اس کی خوشی تھوڑی دیر کے بعد مایوسی سے بدل جائے گی۔لیکن وہ جو پہلے کی نسبت پنے محبوب کے زیادہ قریب پہنچ گیا ہے اس کی خوشی بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔غیروں کی عیدوں میں جو خوشی ہوتی ہے وہ ایسی ہی ہے جیسے ایک بت پر کوئی شخص فدا ہو جائے لیکن ہماری عید میں وہ ہیں جن میں ایک صحیح راستہ پر چلایا جاتا ہے اور جس کے ذریعہ ہمیں ہمارا خدا دکھایا جاتا ہے اور پھر ہماری دعاؤں میں قبولیت اور ہم میں تقویٰ پیدا کیا جاتا ہے۔پس ہماری عید کی یہی غرض ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہمیں ہمارا خدا مل جائے اور اس کے ملنے کا یہ طریق ہے کہ اس کے لئے قربانیاں کی جائیں۔اگر ہم اس غرض کو یاد رکھیں تو ہماری عید عید ہے ورنہ جھوٹے طرز پر خوش ہو تا ریخ اور دکھ کو اور بڑھا دیتا ہے۔یاد رکھو آرام دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ انسان دکھ اور مصیبت کو بھلانے کی کوشش کر کے آرام پانا چاہتا ہے۔دوسرا یہ کہ جس چیز سے تکلیف ہے اس کو دور کرنے کے لئے محنت اور مشقت بجالاتا ہے۔مثلاً پہلا شخص جو دکھ کو بھلا کر آرام پانا چاہتا ہے وہ افیون کھاتا