خطبات محمود (جلد 1) — Page 184
۱۸۴ کپڑوں کی صفائی کرتا اور عمدہ عمدہ کھانے پکاتا ہے۔وہ آج اپنے لئے نئے کپڑے نہیں پہنتا بلکہ خدا کے لے پہنتا ہے۔وہ آج کے دن اس لئے خوشی کرتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی ملاقات کا دن ہے جس سے بڑھ کر خوشی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ ہمیشہ میلے کپڑے پہنے رہتے تھے یوں تو اسلام کی سنت ہے کہ انسان صاف ستھرا رہے مگر یہ نسبتی امر ہے گویا وہ صفائی کا زیادہ خیال نہیں رکھتے تھے۔ان کے پاس ایک نہایت بیش قیمت جو ڑا تھا اور ان کے عقید تمند ہمیشہ ان سے پوچھا کرتے تھے یہ آپ نے کس دن کے لئے رکھا ہوا ہے اسے کیوں نہیں پہنتے۔اس پر وہ یہی جواب دیتے کہ ابھی اس کے پہنے کا وقت نہیں آیا جب وقت آئے گا تب پہنوں گا۔ایک دن انہوں نے اپنے احباب کو بلایا اور ان سے کہا اب وقت آگیا ہے کہ میں اپنے محبوب کے پاس جاؤں اور یہ چونکہ خوشی کا دن ہے اس لئے جب میں مرجاؤں تو مجھے اچھی طرح غسل دے کر خوشبو لگانا اور یہ بیش قیمت لباس پہنچا کر دفن کر دیتا۔پس عید کے دن جو تبدیلی مومن اپنے ظاہری لباس وغیرہ میں کرتا ہے اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتا ہے کہ چونکہ میرے باطن میں تبدیلی ہو چکی ہے اور میرا مولیٰ میرے گھر آنے لگا ہے اس لئے مجھے خوشی منانی چاہئے اور خوشی کی تمام علامات ظاہر کرنی چاہئیں۔بظاہر تو یہ ایک ناٹک سا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہی آپ یہ خیال کر لیا جائے کہ میں روزے رکھنے کے بعد پاک و صاف ہو گیا ہوں اور آپ ہی یہ سمجھ لیا جائے کہ اب میرا خدا میرے پاس آنے والا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہوئی جیسے پنجابی میں ایک ضرب المثل ہے کہ آپے میں نہاتی دھوتی آپے میرے بچے جیون۔لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ تماشہ نہیں کیونکہ اس کا تعلق باطن سے ہے اور تماشہ صرف ظاہر سے تعلق رکھتا ہے۔یہ روحانیت کا معاملہ ہے مادیات کا نہیں۔خدا تعالی کا آنا فی الحقیقت خیالات کی تبدیلی اور باطن کے تغیر سے تعلق رکھتا ہے۔اگر تو خدا تعالی مجسم ہوتا اور اس نے چل کر آنا ہو تا تو بے شک اس کی آمد سے قبل ضروری تھا کہ کارڈ یا لفافہ یا کسی اور ذریعہ سے اس کے آنے کی اطلاع آتی۔پھر ریل یا موٹر کے آنے کی آواز سنائی دیتی۔پھر وہ ظاہری شان و شوکت کے ساتھ آتا۔مگر اللہ تعالیٰ کی ملاقات دراصل دل کی تبدیلی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔جب کوئی انسان رمضان کے بعد اپنے دل میں تبدیلی محسوس کرے تو پھر اسے حق ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ملنے کی امید رکھے اور اگر انسان واقعہ میں یہ سمجھ لے کہ میرا خدا مجھے ملنے والا ہے تو پھر مل بھی جاتا ہے۔رسول کریم صلی الہ و سلم نے فرمایا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔