خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 185

۱۸۵ اَنَا عِنْدَ ظَنْ عَبْدِى بِى۔کہ میرا بندہ مجھ سے جیسا گمان کرتا ہے میں اس سے ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔ایمان کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان فیصلہ کر لیتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے مل گیا اور جب انسان یقینی طور پر یہ سمجھ لے تو ایسا ہو بھی جاتا ہے۔ناٹک کا تماشہ کرنے والا دل میں جانتا ہے کہ جو کچھ وہ ظاہر کر رہا ہے حقیقت وہ نہیں مگر مومن کی حالت اس کے الٹ ہوتی ہے وہ جو کچھ کہتا ہے اس کے درست ہونے کا یقین بھی رکھتا ہے۔حقیقت نہ جانے والے لوگ اسے پاگل کہہ سکتے ہیں مگر ناٹک والا نہیں کہہ سکتے کیونکہ ناٹک والا جو کچھ کرتا ہے اسے خود بھی محض بناوٹ اور غلط سمجھتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک پاگل جو کچھ کہتا ہے وہ غلط ہوتا ہے اور اس کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی لیکن وہ خود اسے غلط اور بے حقیقت نہیں سمجھتا بلکہ اس کے درست ہونے پر یقین رکھتا ہے۔پس وہ لوگ جو مومن کی باتوں کو اپنی جہالت اور نادانی سے درست نہ سمجھیں وہ اسے پاگل تو کہہ سکتے ہیں ناٹک والا نہیں کہہ سکتے۔لیکن پھر پاگل اور بچے مومن میں امتیازات بھی مقرر ہیں۔پاگل انسان کا سارا زور و ہم پر ہوتا ہے عمل پر نہیں ہو تا۔مثلاً بادشاہ کا کام ہے لوگوں میں عدل و انصاف کرنا امن قائم کرنا ملکی ترقی کی کوشش کرنا ، ملک کو دشمنوں محفوظ رکھنا، ملک میں علوم کی اشاعت کرنا۔اب اگر کوئی شخص کہے میں بادشاہ ہوں اور ساتھ ہی ملک کی حفاظت کرے علوم کو رائج کرے، رعایا کی بہبودی کے سامان مہیا کرے لوگوں میں عدل و انصاف اور امن و امان قائم کرے تو کوئی اسے پاگل نہیں کہے گا بلکہ یہی سمجھے گا کہ اگر یہ شخص آج بادشاہ نہیں تو کل ضرو ر بادشاہ بننے والا ہے کیونکہ مشہور ہے ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات۔۵ لیکن پاگل منہ سے تو کہے گا میں بادشاہ ہوں مگر کام بادشاہوں والے اس سے سرزد نہیں ہونگے۔وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرے گا کہ خالی مٹھی بند کر کے کسی کے ہاتھ میں رکھ دے اور کہے یہ لو روپیہ مگر بادشاہ فی الواقعہ لوگوں کو مال دیتا ہے، فساد مٹاتا ہے ، صنعت و حرفت کو ترقی دیتا ہے علوم کو رائج کرتا ہے اور تمدنی حالت کی اصلاح میں کوشاں رہتا ہے۔اگر کوئی شخص ایسا کرنے لگے تو ہم سمجھ لیں گے یہ یقین رکھتا ہے کہ اگر آج نہیں تو کل میں ضرور بادشاہ ہونے والا ہوں۔اسی طرح جو مومن واقعہ میں یہ یقین رکھتا ہے کہ میرا خدا مجھے ملنے والا ہے وہ اپنے اعمال میں بھی تبدیلی کرے گا وہ دین کے لئے محبت رکھے گا اور اس کے لئے قربانی کرے گا، علوم کی اشاعت کرے گا اپنے بھائیوں کے فسادات دور کرے گا کیونکہ لوگ جو کام اپنے آقا کو کرتا دیکھتے ہیں وہی خود کرنے لگ جاتے ہیں اور جو شخص خدا تعالیٰ کو اپنا آقا سمجھے گا 6