خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 183

IAP قریباً تمام افراد ایک ہی کام کرنے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں اور باقی سب کام یا تو گلی طور پر نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں یا جزئی طور پر۔اسی طرح اگر خاوند بیمار ہو تو بیوی کو ہر وقت اسی کے علاج اور تیمار داری کی فکر رہتی ہے اور سب کام بند ہو جاتے ہیں۔غرض انسان مختلف حالتوں میں مختلف کام کرتا ہے اور ان حالتوں کے مطابق کبھی تو اس کا حلقہ عمل وسیع ہوتا ہے اور کبھی محدود۔بعض بے وقوف ایک ہی قسم کا کام ہمیشہ کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ باقی سب لوگ بھی وہی کام کریں حالانکہ یہ طریق قطعاً غلط ہے۔پھر جس طرح افراد کے متعلق یہ بات ہے کہ وہ مختلف اوقات میں مختلف کام کرتے ہیں اسی طرح قوموں کے بھی مختلف اوقات کے مختلف کام ہوتے ہیں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق بائیبل میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ کی ایک گھر میں کھانا کھانے بیٹھے تھے اُس وقت کچھ لوگوں نے جو ان کے مخالف تھے ان کے پاس آ کر کہا کیا سبب ہے کہ ہم اور فریسی تو روزے رکھتے ہیں مگر تمہارے شاگر د روزہ نہیں رکھتے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے ان سے کہا کیا براتی جب تک دولہا ان کے ساتھ ہے ماتم کر سکتے ہیں مگر وہ دن آئیں گے کہ دولہا ان سے جُدا کیا جائے گا اس وقت وہ روزہ رکھیں گے۔ل۔اب دیکھو! روزے جیسی لطیف عبادت کے متعلق حضرت مسیح علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا بظاہر یہ ناموزوں معلوم ہوتا ہے مگر صحیح بات یہی ہے کہ بعض ایام روزہ چھوڑنے والے ہوتے ہیں اور یہ عید کا دن بھی ایسا ہی ہے جب روزہ رکھنا نا جائز ہے۔لے کیونکہ یہ دن مومن کے لئے وہی خوشی اپنے اندر رکھتا ہے جو خاوند کے گھر آنے پر ایک عورت کو ہوتی ہے۔آج کے دن مومن یہ فرض کرتا ہے کہ میرا خدا میرے گھر آنے والا ہے۔مومن اپنے فعل کو عبث قرار نہیں دیتا، وہ بے ایمان نہیں ہوتا اسے خدا پر پورا پورا یقین ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے میں نے جو فاقے میں دن (یا جو معذور تھا اس نے کم و بیش) خدا تعالیٰ کے لئے کئے ہیں ان کے نتیجہ میں میرا خدا مجھے مل گیا ہے۔۳، گویا ان تمیں ایام کی عبادت کے بعد وہ خدا تعالیٰ کے متعلق یقین کرتا ہے کہ وہ اسے مل گیا ہے اور جس طرح وہ عورت جس کا خاوند ایک عرصہ کے بعد باہر سے آئے سوگ نہیں کیا کرتی بلکہ اپنے کپڑے صاف کرتی، بناؤ سنگار کرتی ہے ، گھر کی صفائی کرتی ہے ہے ، عمدہ عمدہ کھانے پکاتی ہے اور یہ سب کچھ اس امید پر کرتی ہے کہ جب میرا خاوند گھر آئے گا تو یہ دیکھ کر خوش ہو گا کہ مکان آراستہ پیراستہ اور ہر چیز قرینہ سے رکھی ہے اسی طرح آج کے دن مومن بھی اسی لئے کہ سمجھتا ہے آج میرا خدا میرے گھر آنے والا ہے، اپنے بدن اور