خطبات محمود (جلد 1) — Page 169
۱۶۹ کی امید وابستہ رکھتا ہے۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ دین کے لئے قربانیوں کا بدلہ کوئی انسان دے سکتا ہے۔ اس کی مثال اس بیوقوف فقیر کی سی ہے جسے کسی اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر نے کچھ دے دیا تو اس نے خوش ہو کر کہا۔ ” خدا تینوں تھانیدار کرے“ یعنی خدا تمہیں پولیس کا سب انسپکٹر بنائے۔ چونکہ تھانیدار عام طور پر آوارہ گرد فقیروں کو پکڑ کر ڈانٹتے ڈپٹتے رہتے ہیں اس لئے اس کے نزدیک سب سے بڑا عہدہ ہی تھا۔ پس یہ خیال کہ ایسی قربانیوں کا بدلہ خدا نہیں بلکہ کوئی انسان دے گا یہ ایسا ہی خیال ہے جیسا اس بیوقوف فقیر کا تھا۔ حدیثوں میں آتا ہے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہر عمل کا بدلہ ہے لیکن رمضان کا بدلہ خود میری ذات ہے۔ سلاہ اگر کوئی کہے یہ حدیث ہی میں ہے قرآن میں ایسا کہاں لکھا ہے تو قرآن میں بھی موجود ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ لا رمضان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ رمضان میں جب میرے بندے مجھ سے دعا کرتے ہیں تو میں ان کے پاس آکر ان کی دعائیں سنتا ہوں۔ پھر حدیث میں چاند کی رویت کو خدا تعالیٰ کے دیدار کی مثال میں پیش کیا گیا ہے۔ رسول کریم مسلم سے صحابہ نے دریافت کیا۔ یا رسول الله ملی ایم قیامت کے دن اس قدر ہجوم ہو گا ہم خدا تعالیٰ کو کس طرح دیکھ سکیں گے۔ آپ نے فرمایا جس طرح ہلال کو دیکھتے ہو ۔ کیا اُس وقت بھیڑ ہوتی ہے ؟ ها تو خدا تعالی کی خاطر قربانیوں کا بدلہ خود خدا تعالیٰ ہی ہے۔ پس دین کی خاطر جو مشکلات برداشت کی جائیں ان میں یہ بات ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئے کہ ان کا بدلہ کوئی انسان نہیں دے سکتا بلکہ میرے نز نزدیک اس میں کوئی ہتک نہیں بلکہ فخر ہے اگر میں یہ کہوں کہ محمد رسول اللہ میں الا یہ بھی خدا کے لئے قربانیوں کا بدلہ نہیں دے سکتے کیونکہ جس چیز کا بدلہ خود خدا ہو اس کا بدلہ انسان خواہ وہ کس قدر بھی بلند شان ہو کس طرح دے سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بغیر بچی قربانی کے عید بھی نہیں ہو سکتی جیسے وہ شخص جو روزہ کو کٹی سمجھتا ہے اور اس کے لئے اپنے اندر کوئی خواہش نہیں پاتا اس کے لئے کوئی عید نہیں۔ اس طرح جو شخص دین کے لئے قربانی کرنے کی بچی خواہش نہیں رکھتا بلکہ اسے چٹی سمجھتا ہے اس کے لئے بھی عید نہیں ہو سکتی۔ پس دین کی خدمت اسی شوق اور خواہش سے کرنی چاہئے جس طرح ایک ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے۔ وہ اسے چٹی نہیں سمجھتی بلکہ اس میں لذت محسوس کرتی ہے۔ بعض لوگ بچوں کو کھلانے کے لئے نوکر رکھتے ہیں لیکن بچے نوکر کے پاس جا