خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 457

۴۵۷ جائیں گے لیکن کیا تمہاری جماعت بھی ایسا کر سکتی ہے۔ایک منظم جماعت ہر گز ایسا نہیں کر سکتی۔ایک منظم جماعت کی بد دیانتی چُھپ نہیں سکتی سوائے اس کے کہ وہ اپنا کام بند کر دے۔لیکن باوجود بار بار توجہ دلانے کے تم نے اور ناظروں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔تمہیں غصہ ہوتا ہے کہ ناظر صاحب نے تو ہماری سفارش کر دی تھی لیکن خلیفۃ المسیح نے دستخط نہیں کئے۔خلیفہ کی جیب میں روپے ہوں تو وہ اس پر دستخط کر دے جب میرے پاس روپیہ نہیں خزانے کے متعلق رپورٹ ملتی ہے کہ وہاں روپیہ نہیں تو میں اضافہ جات پر دستخط کیسے کروں خلیفة المسیح روپیه خود خرچ نہیں کر لیتا۔اب بھی خلیفہ کا دیا ہوا چندہ دوسروں سے زیادہ ہے لیکن میں کیمیا گر نہیں کہ میں روپیہ بنالوں اور نہ میں جادو گر ہوں اور نہ جادو اور کیمیا پر میرا ایمان ہے میں روپیہ کہاں سے لاؤں اگر روپیہ نہ ہو تو میں دوں کہاں سے۔تم میں بے چینی ہوتی ہے کہ ناظر صاحب نے گو سفارش کر دی تھی خلیفۃ المسیح نے دستخط نہیں کئے۔تم ہی کہتے تھے کہ ہمیں چار کی بجائے پانچ کرسیاں چاہئیں، پانچ کلرک کی بجائے سات کلرک چاہئیں اور تم نے میری بات نہیں مانی اس لئے تم آج بھوکے ہو۔اگر میں تمہاری بات مان لیتا تو تمہاری ہڈی پس جاتی۔آخر تم کیا سمجھتے ہو کہ کیا یہ روپیہ میں نے استعمال کر لیا تھا۔اگر میں نے روپیہ لیا نہیں بلکہ روپیہ دیا ہے تو یہ بات تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ میں تمہیں بچانے کی خاطر ایسا کر رہا ہوں۔تمہارا کام تھا کہ اگر پانچ کلرک ہوں تو ان کی بجائے چار کرواتے تا خرچ کم ہو اور ناظروں کو چاہئے تھا کہ بجائے اس کے کہ وہ تمہارے ساتھ مل کر زائد کلرکوں کی سفارش کرتے تمہیں سمجھاتے اور آپ بھی قربانی کرتے تا سلسلہ پر تنگی کا وقت نہ آتا لیکن ناظروں نے بھی جب دیکھا کہ ہم کیوں ماتحتوں سے لڑیں تو انہوں نے تمہاری بات مان لی اور یہ سمجھ لیا کہ نئے خرچ کی اجازت چونکہ خلیفہ المسیح دیتے ہیں اس لئے بدنامی خلیفہ کی ہوگی ہماری تو نیک نامی ہی ہے۔لیکن میں نے اس کی پرواہ نہ کی اور اب بھی میں پرواہ نہیں کروں گا اور سختی سے کام لوں گا۔اگر کوئی صورت روپیہ پیدا کرنے کی ہوتی تو میں کہیں سے روپیہ لے آتا مگر یہ بات میرے بس سے باہر ہے۔ہمارا اوسط خرچ ۸۰ ہزار روپیہ ماہوار ہے اور اگر وقتی خرچ نکال لیا جائے تو ۷۰-۲۵ ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے۔پچھلے سال تم درخواستیں دیتے رہے کہ فلاں جگہ دو ہزار کی زیادتی کر دی جائے، فلاں جگہ چار ہزار کی زیادتی کر دی جائے اور سارا سال تم زیادتیاں کرواتے رہے، جب بارہواں مہینہ آیا تو تم نے دو لاکھ روپیہ کے بل محاسب کے پاس