خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 458

۴۵۸ بھیج دیئے کہ پچھلے مہینوں کا اتنا خرچ ہے۔دوران سال میں بل کم و بیش کرنے کے یہ معنی تھے کہ مجھے خزانہ میں روپیہ نظر آئے اور میں زیادتی کرنے سے انکار نہ کر سکوں۔جب خزانہ میں جو روپیہ موجود تھا وہ خرچ کر لیا تو آخری مہینے میں ۶۰ - ۶۵ ہزار روپیہ کی جگہ دو لاکھ کے بل دے دیئے۔شوریٰ میں بات ہوئی تو محاسب صاحب نے کہا کہ اس وقت ساٹھ ہزار روپیہ ہمارے پاس ہے ۲۴ ہزار روپیہ اور آ جائے گا۔اس طرح ہم ماہوار خرچ بھی ادا کر دیں گے اور تیس ہزار روپیہ جو ایک مشن کے لئے منظور ہوا ہے وہ بھی ادا کر دیں گے۔میں نے اپریل میں انہیں بار بار یاد دلایا کہ کیا یہ تمہیں ہزار روپیہ نکال لیا گیا ہے لیکن انہوں نے خاموشی برتی۔آخر جب تاریخ ختم ہو گئی تو کہہ دیا کہ بل اتنے زیادہ آگئے تھے کہ ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں بچتا تھا اس لئے وہ تمیں ہزار روپیہ خزانہ سے نہیں نکالا گیا۔بعد میں نظارتوں نے توجہ دلائی کہ ایک لاکھ دس ہزار روپے کے بل اور پڑے ہیں جو ادا نہیں ہوئے۔تم سمجھ سکتے ہو کہ کیا ان حالات میں کام چل سکتا ہے؟ پہلے خرچ چھپا کر رکھا اور آخر میں آکر سب بل ڈال دیئے۔ظاہر ہے کہ ان بلوں کو چھپانے کی غرض یہی تھی کہ مجھ سے دوران سال میں بجٹ میں اضافوں کی منظوریاں لی جا سکیں۔مجھ پر ظاہر کیا جائے کہ آمد کافی اور ضرورت سے زیادہ ہے آپ ضرور اضافوں کی اجازت دے دیں۔مگر کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ کام صرف ناظر کر سکتے ہیں بل تم بناتے ہو جب تک تم اس چالا کی میں ناظر کے ساتھ شامل نہیں ہوگے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔بھلا ناظر کو کیا شوق ہے کہ وہ لکھے کہ مجھے فلاں کام کے لئے اتنے کلرکوں کی ضرورت ہے تم شور مچاتے ہو تو وہ زائد کلرک مانگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کام کا معیار پہلے کی نسبت گر چکا ہے۔جو کام تم آج سے میں سال پہلے کرتے تھے اس سے اب کم کرتے ہو۔ناظروں پر کمیشن بٹھا کر دیکھ لو کہ پچھلے ماہ میں ان سب نے مل کر اتنا تحریری کام نہیں کیا جتنا اکیلے میں نے کیا ہے۔ان کی تحریر مجھ سے چار پانچ گئے کم ہوگی۔کلرکوں کو دیکھ لو بجائے اس کے کہ وہ ۲۰ چٹھیاں روزانہ نکالیں وہ پندرہ چٹھیوں پر شور مچا دیتے ہیں کہ کام بہت زیادہ ہے۔دوسرا کلرک آئے گا تو کام ختم ہو گا لیکن اگر دوسرا آدمی آئے گا تو تم چلے جاؤ گے کیونکہ سلسلہ کے پاس اتنا روپیہ نہیں کہ تم دونوں کی تنخواہ دے سکے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمہیں باہر کوئی نہ کوئی کام مل جائے گا لیکن ثواب نئے آنے والے کو ملے گا۔تمہارا سارا شور اس بات کا نتیجہ ہے کہ تم سلسلہ کے کام کے ثواب اور عظمت کو ذہن میں نہیں رکھتے۔تم ہمیشہ اس روپیہ کا حساب لگاتے ہو جو تمہیں