خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 456

۴۵۶ دونوں میں ہے۔جب تک تم دونوں مل کر خرابی پیدا نہ کرو خرابی پیدا نہیں ہو سکتی۔مثلا بل ہیں بل کیا ناظر بناتے ہیں بل تم بناتے ہو اور ناظر اس پر دستخط کرتے ہیں گویا بل بنانے میں دونوں شریک ہو۔تم میں سے ایک شخص اس کی جرات نہیں کر سکتا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ تم دونوں کا ہوتا ہے۔اس سال جو مجلس شوری میں ہماری آنکھیں کھلیں تو معلوم ہوا کہ بجٹ آمد سے بہت زیادہ بنایا گیا ہے۔بجٹ دوبارہ چیک کرنے کے بعد ہم نے ایک لاکھ اٹھارہ ہزار روپیہ کا خرچ کم کیا کچھ شورٹی کمیٹی نے خود ہی کم کر دیا تھا۔گو بعض مدات میں زیادتی بھی کی گئی تھی لیکن مجموعی طور پر جو اخراجات میں کمی کی گئی تھی وہ ایک لاکھ ۸۰ ہزار روپیہ سالانہ کے قریب بنتی ہے گویا پندرہ ہزار روپیہ ماہوار بجٹ میں سے کاٹ دیا گیا۔اتنا روپیہ کاٹ دینے کے بعد بھی ہمارا یہ حال ہے کہ کارکنوں کو تنخواہیں نہیں مل سکیں اگر انتار و پیہ نہ کاٹا جاتا تو تمہاری کیا حالت ہوتی۔یہ خرابی کہاں سے پیدا ہوئی ہے بغیر اس کے کہ افسروں کے ساتھ ماتحت شریک ہوں خرابی پیدا ہونی ناممکن ہے۔اکیلے ناظر خرابی پیدا نہیں کر سکتے۔ماتحت ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں اتنے ٹکٹ زیادہ چاہئیں، اتنی میزیں اور چاہئیں، اتنی کرسیاں اور چاہئیں ، اتنی پنسلیں اور منگوا دیجئے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روپیہ ان پر ضائع چلا جاتا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ ایک آدمی کے پاس پانچ پانچ کام تھے۔کارکن راتوں کو کام کرتے تھے لیکن اب ہر ایک کارکن یہ سمجھتا ہے کہ اس کا کام ایک آدمی کا کام نہیں۔وہ ناظر کے پاس جاتا ہے کہ ایک آدمی اور بڑھا دیا جائے وہ فورا سفارش کر دیتا ہے کہ مجھے ایک اور آدمی کی ضرورت ہے۔اور وہ ایک آدمی بڑھا دیا جاتا ہے۔اور حالت یہ ہوتی ہے کہ پہلے کارکن کی تنخواہ اگر بارہ آنے تھی تو آمد ایک روپیہ تھی۔اب بارہ آنہ کا ایک اور کلرک آجاتا ہے تو آمد ایک روپیہ ہی رہتی ہے لیکن خرچ ڈیڑھ روپیہ ہو جاتا ہے اب دنیا کے کسی قاعدے کی رو سے ایک روپیہ سے ڈیڑھ روپیہ نہیں نکل سکتا۔دوسرے ماہ آٹھ آنے قرض کی بجائے ایک روپیہ قرض ہو جائے گا اور تیسرے ماہ ڈیڑھ روپیہ قرض ہو جائے گا اور چار پانچ ماہ کے بعد دیوالیہ نکل جائے گا۔آخر تمہیں میری بات سمجھ میں کیوں نہیں آ سکتی۔کیا میری اس بات کو سمجھنے کے لئے کسی بڑے حساب کی ضرورت ہے۔کیا اس کے لئے بڑی عقل کی ضرورت ہے کہ اگر خرچ دس لاکھ کا ہو اور آمد آٹھ لاکھ ہو تو دیوالیہ نکل جاتا ہے۔افراد تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر آمد چار لاکھ روپیہ ہے تو آٹھ لاکھ قرض لے لیں گے اور مطالبہ پر وہ جگہ چھوڑ دیں گے اور کسی دوسرے ملک میں بھاگ