خطبات محمود (جلد 1) — Page 298
٢٩٨ والسلام نے ٹرنک بند کر دیا اور فرمایا مولوی صاحب شاید اس کی نزع کا وقت ہے۔پھر واپس آئے نبض پر ہاتھ رکھا اور فرمایا یہ تو فوت ہو گیا ہے۔پھر اسی وقت آپ نے کاغذ منگوایا اور دوستوں کو باہر خط لکھنے شروع کر دیئے کہ مبارک احمد کی بیماری کی وجہ سے بہت سے دوستوں کو تشویش تھی اس لئے میں اطلاع کے طور پر لکھ رہا ہوں کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی اس نے وہ امانت اٹھالی اور ہمیں رنج کی کوئی وجہ نہیں۔جب تک وہ زندہ تھا ہم نے خدمت کر کے ثواب حاصل کر لیا اور اب جو وہ وفات پا گیا تو ہمیں اس پر کوئی رنج نہیں۔پھر آپ جب جنازہ کے لئے باہر تشریف لے گئے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جنازہ سے پہلے یا بعد میں آپ دوستوں سمیت باغ میں بیٹھ گئے ، اور فرمایا دیکھو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لئے ہر موقع پر خوشی کا سامان ہی پیدا ہو جاتا ہے۔لوگوں کے بچے مرتے ہیں اور ان کے گھروں میں ماتم پڑ جاتا ہے مگر ہمارا بچہ فوت ہوا تو معاً ہمیں وہ الہامات یاد آ گئے جو اس کی وفات کے متعلق اللہ تعالی کی طرف سے سالوں پہلے نازل ہو چکے تھے بلکہ بعض اس کی پیدائش سے بھی پہلے نازل ہو چکے تھے اور ہمارا دل خوشی سے بھر گیا کہ دنیوی دوست تو مصیبت آنے کے بعد ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں مگر ہمارے خدا نے اس بچہ کی پیدائش سے بھی پہلے ہم سے ماتم پرسی کر چھوڑی تھی اور ہم سے ہمدردی کا اظہار کر دیا تھا۔پس یہ رنج کا موقع نہیں ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے اس لئے کہ ہمارا خدا ہم سے خوش ہے اور اس لئے بھی کہ خدا کی باتیں پوری ہو ئیں اور جب خدا کی باتیں پوری ہوں تو مومن غمگین کب ہو سکتا ہے۔اب یہ دیکھو کیسی عمدہ مثال اس امر کی ہے کہ جو سچا مومن ہو اس کے لئے رنج کی گھڑیاں بھی خوشی کی گھڑیاں ہوتی ہیں۔اب دیکھ لو جو معاملہ میرے ہی ساتھ ہے کہ کوئی فتنہ جماعت میں ایسا نہیں آیا جس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر نہ دی ہو اور وہ چھپ نہ گئی ہو بلکہ تفصیلات تک بعض دفعہ اس نے بتادی ہیں۔ان مصائب کو دیکھ کر گو بشریت کے طور پر ایک قدرے قلیل رنج پیدا ہو مگر وہ اس خوشی کے مقابلہ میں کچھ بھی تو حقیقت نہیں رکھتا جو اس بات کو دیکھ کر ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں پہلے ہی اس سے خبردار کر دیا تھا۔ہمیں اگر اس کا افسوس ہو سکتا ہے تو اتنا ہی ہو سکتا ہے کہ شاید اس شرارت کی وجہ سے سلسلہ کو کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن خدا نے جب پہلے ہی اس فتنہ کی خبر دے دی ہو اور یہ بھی خوشخبری دے دی ہو کہ دشمن ناکام رہے گا اور ہماری ہی فتح ہو گی تو پھر خوشی کی نسبت رنج کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔اور یوں تو اس دنیا میں