خطبات محمود (جلد 1) — Page 299
۲۹۹ مشکلات اور مصیبتیں لگی ہوئی ہیں۔انسانی زندگی ہی خدا نے ایسی بنائی ہے۔اصل سوال تو احساس کا ہوتا ہے اور اگر مصیبتیں اور تکلیفیں اور فتنے اور ابتلاء انسان کو دبا نہ دیں اور مغلوب نہ کر لیں اور خدا کی محبت اور اس کا پیار اس کے دل کو بڑھاتا رہے اور طاقت دیتا رہے تو عید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹتا اور ماتم کا لباس انسان کے جسم پر نہیں پہنایا جا تا ریخ تو صرف ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ہاتھ کو چھو گیا اور عید اس طرح ہوتی ہے جیسے کسی نے زرہ پہن لی کہ وہ جسم کی حفاظت بھی کرتی ہے اور اس سے جدا بھی نہیں ہوتی۔پس جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرے وہ سچی خوشی دیکھتا ہے اور اس کی خوشی اصل خوشی ہے۔اور یہ خوشی تبھی نصیب ہوتی جب محمد رسول اللہ میم کے توسط سے وہ خوشی ہمیں ملے کیونکہ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے محمد رسول الله ملی و خاتم الانبیاء ہی نہیں بلکہ وہ خاتم الانسان بھی ہیں۔اور در حقیقت اب ان کے بعد انسان بھی ظلی انسان ہیں۔پس اگر کوئی انسان خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے تو پہلے محمد رسول اللہ علی کے دل میں خوشی ڈالے پھر وہاں سے وہ خوشی اس کی طرف آئے گی۔اگر وہ براہ راست اس کو لینا چاہے گا تو وہ اس کے گلے میں اٹک جائے گی اور نہ نکلی جائے گی اور نہ تھو کی جائے گی اور آخر اس کی موت کا باعث ہوگی اور وہ عید کا دن نہیں بلکہ موت کا دن دیکھے گا۔لیکن اگر وہ محمد رسول اللہ میں لی لی عوام کے دل میں خوشی ڈالے گا تو وہ خوشی اسی طرح بڑھ کر جس طرح ایک اچھا دانہ ایک اچھی زمین میں ایک اچھے موسم میں ایک اچھی طرح تیار کی ہوئی کھیتی میں ڈالا جاکر اور باوقت پانی پا کر اور اچھے موسم میں سے گذرتے ہوئے بڑھتا اور پھلتا اور پھولتا ہے اور کئی گنے زیادہ ہو جاتا ہے اسی طرح اس کی وہ تھوڑی سی خوشی جو یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں ڈالے گا بڑھے گی اور نشو و نما پائے گی اور ایک دانہ سے سینکڑوں دانے بن جائے گی اور پھر وہ کھیتی پک کر کائی جائے گی اور اس کا دانہ اس کے بھوسے سے جُدا کیا جائے گا اور اس کے خواب و خیال سے بھی زیادہ خوشی کا غلہ فرشتے لا کر اس کے دل میں ڈال دیں گے اور کہیں گے کہ یہ وہی خوشی کا بیج ہے جو تم نے محمد رسول اللہ علی کے دل میں بویا تھا۔تمہاری کھیتی پک گئی اور ہم اسے کاٹ کر تمہارے پاس لائے ہیں تمہاری امانت تم ہی کو دی جاتی ہے محمد رسول اللہ ملی او لیول کو اس کی ضرورت نہیں۔اے دوستو! مختلف پیرایوں میں یہ سبق میں نے تم کو پڑھایا ہے مگر افسوس کہ بہت کم لوگوں کو ابھی یہ یاد ہوا ہے۔اکثر لوگ سنتے ہیں اور بھول جاتے ہیں، سنتے ہیں اور بھول