خطبات محمود (جلد 1) — Page 297
۲۹۷ جائیں اور اس کی خوشیاں بھی خوشیاں بن جائیں اور اس کی پیدائش بھی دنیا کے لئے رحمت ہو اور اس کی موت بھی دنیا کے لئے رحمت ہو۔مجھے یاد ہے کہ ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہایت محبت رکھتے تھے جب بیمار ہوا۔یہ ۱۹۰۷ ء کی بات ہے تو حضرت خلیفہ اول اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور ڈاکٹر عبد الستار شاہ صاحب حملہ اس کا علاج کیا کرتے تھے اسے محرقہ بخار تھا اور یہ بخار لمبا چلا کرتا ہے شاید وہ بھی چودہ تانا پندرہ دن تک بیمار رہا۔میں ہی اس کا تیمار دار تھا اور دوائی پلانی میرے ہی سپرد تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود بھی اس کی تیمار داری کرتے تھے اور ان ایام میں مجھے یاد میں کہ جب بھی میں سویا ہوں میں نے اپنے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سویا ہوا دیکھا ہو اور جب بھی میں جاگا ہوں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے سے پہلے جاگا ہوا نہ دیکھا ہو اور رات اور دن اس کی خدمت میں مصروف نہ پایا ہو۔آپ کی اس تیمار داری اور آپ کے اس احساس کو دیکھ کر بعض لوگوں کے دلوں میں خیال تھا کہ اس کی وفات کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت صدمہ ہو گا۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جس دن وہ فوت ہو ا بظاہر اس کا بخار تو کم ہو رہا تھا مگر اس کا ضعف بڑھتا چلا جا رہا تھا۔صبح کی نماز پڑھ کے جب میں گھر میں داخل ہوا تو حضرت خلیفہ اول اور ڈاکٹر رشید الدین صاحب مرحوم یہ تو مجھے یقیناً یاد ہیں اور شاید ان کے سوا اور بھی کوئی دوست تھے جن کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں میرے ساتھ ہی اندر آئے۔مبارک احمد اس وقت آرام سے لیٹا ہوا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اس کی نبض دیکھی اور میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا ہے اور کانپتی ہوئی آواز میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آواز دی اور کہا حضور بہت ضعف ہے مشک لائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ٹرنک کی طرف گئے تاکہ اس میں سے مشک نکالیں تو حضرت خلیفہ اول نے پھر گھبرا کر کہا حضور جلدی کریں بہت زیادہ ہے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول نے ہاتھ پہنچے کے پاس سے ہٹا کر کہنی کے اوپر رکھا اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو دیکھ کر کہا کہ اب نبض صرف یہاں محسوس ہوتی ہے پھر آپ نے گھبرا کر کہا حضور جلدی کریں اور میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول صدمہ کی وجہ سے بمشکل کھڑے تھے اور ان کا جسم کانپ رہا تھا آخر ضعف کی وجہ سے آپ زمین پر بیٹھ گئے اور پھر انہوں نے کہا حضور جلدی کریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ ضعف