خطبات محمود (جلد 1) — Page 292
۲۹۲ جزاء کے قابل ہو۔پس یہ عید اسی دن ختم ہو جاتی ہے اور اس کے انعامات دوسرے دن کے لئے چھوڑے نہیں جاتے۔پھر اگر تمہارا نفس تمہیں یہ جواب دے کہ میں تو اس لئے عید منا رہا ہوں کہ سب لوگ باقی بھی عید منا رہے ہیں اور جدھر میری قوم جا رہی ہے ادھر ہی میں چل رہا ہوں تو تم سمجھ لو کہ تمہارا بدلہ بھی آج ہی ختم ہو گیا کیونکہ تم اپنی قوم کے ساتھ یہاں جمع ہو گئے اور تم نے اپنا مقصود پا لیا جس چیز کے لئے تمہاری قربانی تھی وہ تم کو مل گئی اور اب کسی مزید جزاء کی امید رکھنا عبث اور فضول ہے۔اور اگر تمہارا نفس تم کو یہ جواب دے کہ میں تو آج اس لئے خوش ہوں کہ پہلے چوری چھپے کھانا پڑتا تھا اور آج علی الاعلان بیٹھ کر کھانے کھاؤں گا اور کوئی مجھے ٹوک نہ سکے گا۔تو تم سمجھ لو کہ تم تو اقراری مجرم ہو تم کسی جزائے نیک کے امیدوار نہیں ہو سکتے بلکہ تم تو خدا کی گرفت اور سزا کے مستحق ہو کیونکہ تم نے اس کے احکام کی ہتک کی اور اس کے ارشادات کو حقیر جانا۔تمہارے روزے بھی تمہارے لئے لعنت تھے اور تمہاری عید بھی تمہارے لئے لعنت ہے نہ روزوں نے تمہیں خدا کے قریب کیا۔اور نہ عید نے تمہیں خدا کے قریب کیا اور اگر تمہارا نفس تمہیں یہ جواب دے کہ میں تو اس لئے خوش ہوں کہ مجھے روزوں کے ایام سے چھٹکارا نصیب ہوا اور وہ تکلیف جو میں روزے کی وجہ سے روزانہ اٹھایا کرتا تھا آج مجھے اس سے نجات حاصل ہوئی تو وہ بھی سمجھ لے کہ جس طرح اس نے خدا کے حکم کو چٹی سمجھا ہے خدا بھی اس کے بدلہ کو چھٹی ہی سمجھے گا۔وہ اسے بدلہ تو کچھ دے دے گا مگر جس طرح چھٹی کا کام دہرایا نہیں جاتا اسی طرح خدا کا بدلہ بھی دہرایا نہیں جائے گا۔وہ ایک ہی دفعہ مل کر ختم ہو جائے گا اور بار بار آسمان سے نازل نہیں ہو گا۔لیکن اگر تمہارا نفس تمہیں یہ جواب دے کہ میں تو آج اس لئے خوش ہوں کہ میں خدائی امتحان میں پورا اترا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے حکم کو باوجود اس کے کہ اس میں میرے لئے تکلیفیں میں نے خوشی سے پورا کیا اور ایک دن بھی میرے دل میں ملال پیدا نہیں ہوا اور میں اسے اپنے لئے رحمت سمجھتا رہا اور میں نے اسے سزا یا جرمانہ نہیں سمجھا۔میں نے اس حکم کو قبول کیا اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ کہ اگر یہ حکم مجھے بار بار ملے گا تو میں بار بار اس کی تعمیل کروں گا اور منہ نہیں موڑوں گا جب تک کہ میری جان میں جان ہے اور میرے دماغ میں ہوش و حواس ہیں اور میرے دل میں حرکت ہے تو وہ سمجھ لے کہ اس کا خدا اس سے گرا ہوا نہیں ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ بلند شمان رکھتا ہے۔جس طرح اس نے کہا کہ میں خوشی سے خدا کے امتحان تھیں