خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 291

۲۹۱ 16 بجائے اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنے کے اس کا ممنون بنتا تھا لے اور یہی رنگ ہے جسے پیدا کیا جائے تو انسان کے ساتھ خدا کا بھی وہی معاملہ ہوتا ہے جو پہلے زمانہ میں ابراہیم سے ہوا اور آج بھی ابراہیم سے ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ابراہیم سے ہوتا رہے گا۔ابراہیم مر گیا، اس کی خدمتیں ختم ہو گئیں ، اس کی وفاداریوں کا زمانہ جاتا رہا اس کی تکلیفیں بھی کٹ گئیں ، اس کی قربانیاں بھی جاتی رہیں وہ اب اگلے جہان کی لذتوں اور نعماء سے مسرور ہو رہا ہے مگر اس کا خدا زندہ ہے باوجود اس کے کہ ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں ختم ہو چکیں خدا کے انعام ختم ہونے میں نہیں آتے کیونکہ ابراہیم نے وہ کچھ کیا جو اس کی شان کے مطابق تھا اور اس کے خدا نے وہ کیا جو اس کی شان کے مطابق تھا۔ابراہیم " جو ایک فانی وجود تھا اس نے اپنی محدود زندگی کو خدا کے لئے خرچ کر دیا اور خدا تعالیٰ جو غیر فانی ہے اس نے اپنی ابدی ہستی کو ابراہیم کے اعزاز کے لئے مقرر فرما دیا۔اور جو شخص ابراہیم کے نقش پر چلے گا خدا تعالیٰ اس سے بھی یہی معاملہ کرے گا اور اسے کبھی نہیں چھوڑے گا خواہ اس کے اپنے عزیز اور دوست بھی اسے چھوڑ دیں اور اس وقت بھی اسے نہیں چھوڑے گا جب وہ وفات پا جائے گا بلکہ اس وقت بھی نہیں چھوڑے گا جب کہ اس کی اپنی اولاد اس کے نام کو بھی بھول جائے گی کیونکہ بندوں کا حافظہ کمزور ہے مگر ما را خدا عَلِیم و خبیر لال ہے کوئی چیز اس کے حافظہ سے نہیں اُترتی اور کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں نکلتی۔کلا پس اے عزیزو ! تم اپنے اپنے نفسوں میں غور کر کے دیکھو کہ تم آج کیوں خوش ہو اور پھر جو جواب تمہارے نفس دیں تم ان کے اوپر غور کرو کہ کیا تمہاری عید حقیقی عید ہے۔اگر تمہارے نفس تمہیں یہ جواب دیں کہ ہم عید اس لئے منا رہے ہیں کہ آج چھٹی کا دن ہے، تمام یار دوست اکٹھے ہونگے ، سہیلیاں اور ہمجولیاں جمع ہوں گی، مرد اور عورتیں اپنے اپنے حلقوں میں اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے دل خوش کریں گے تو پھر تم خود سوچ لو کہ تمہاری اس عید کے بدلہ میں تمہیں خدا کی طرف سے کیا ملنا چاہئیے ؟ تمہاری اس عید میں خدا کا کیا حصہ ہے؟ جتنا حصہ تمہاری عید میں خدا کا ہو گا اتنا ہی بدلہ تمہیں خدا کی طرف سے مل جائے گا۔مگر جس عید کا میں نے ذکر کیا ہے اس کا بدلہ تو اسی کے اندر شامل ہے۔دوست جمع ہوتے ہیں ، سہیلیاں جمع ہوتی ہیں ، ادھر ادھر کی باتیں کر لیتے ہیں ، کچھ وقت خوشی میں گزار لیتے ہیں اور اس طرح عید کی قربانی اور عید کی قربانی کا بدلہ دونوں ہی وہیں ختم ہو جاتے ہیں اور کوئی حصہ باقی نہیں رہتا جو