خطبات محمود (جلد 1) — Page 293
۲۹۳ کو قبول کروں گا خدا بھی عرش سے کہے گا کہ میں خوشی سے اس بندے کو قبول کروں گا اور جس طرح اس نے کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں میں بار بار ایسے حکموں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں اس کا خدا بھی کہے گا کہ جب تک میں ہوں میں بار بار اس پر انعام کرنے کے لئے تیار ہوں۔بندے کا عہد تو تیس چالیس سال کے اندر ختم ہو جائے گا کیونکہ موت آکر اس کو اس عہد سے آزاد کر دے گی مگر خدا کا عہد کبھی ختم نہیں ہو گا کیونکہ خدا کے لئے کوئی موت نہیں اور اس کے انعامات کبھی ختم نہیں ہوں گے کیونکہ اس کے خزانوں کی کوئی حد بند نہیں۔پس یاد رکھو کہ تمہاری عید تبھی عید کہلا سکتی ہے جب کہ وہ آخری قسم کی عید ہو اور اگر وہ آخری قسم کی عید نہیں ہے تو یا تو وہ ایک فضول اور عبث چیز ہے جس کی قیمت چند فضول ضائع کئے ہوئے گھنٹوں سے زیادہ نہیں۔اور یا پھر وہ ایک لعنت ہے جسے قبول کرنے کی بجائے رد کر دینا زیادہ مناسب ہے لیکن اگر وہ عید اس قسم کی ہے جو میں نے مومنوں کی شان کے مطابق بیان کی ہے تو وہ عید ایک قیمتی چیز ہے اس کے لئے جتنی بھی قربانی کی جائے کم ہے اور جتنی بھی فدائیت اس کے لئے دکھائی جائے وہ بے حقیقت ہے۔پس اے دوستو! اس عید کی تلاش کرو کہ عید یہ نہیں جو ہم یہاں جمع ہوئے اور عید یہ بھی نہیں جو ہم نے دو رکعت نماز پڑھی ہے اور عید یہ بھی نہیں جو ہم نے یہاں بیٹھ کر خطبہ ڑھایا یا سنا ہے۔عید تو ہمارے دل کی وہ آواز ہے جو آج خدا کی طرف جا رہی ہے اور عید تو وہ جواب ہے جو خدا کی طرف سے ہماری طرف آ رہا ہے۔اگر وہ آواز مومنانہ آواز تھی اور اگر وہ جو اب مرتبیا نہ جواب ہے تو ہمارا خطبہ خطبہ ہے اور ہماری نماز نماز ہے اور ہماری خوشی خوشی ہے اور اگر یہ بات نہیں تو نہ ہمارا خطبہ خطبہ ہے ، نہ ہماری عید عید ہے اور نہ ہماری خوشی خوشی ہے۔اس صورت میں تو بہتر ہوتا کہ ہم بجائے اس جگہ پر جمع ہونے کے جنگلوں میں نکل جاتے اور تنہائی کے مقاموں میں اپنے سر زمین پر رکھ کر خدا کے حضور میں گریہ و زاری کرتے کہ اے خدا! ہمارے دل مرگئے اور ہمارے ایمان جاتے رہے کیونکہ ہم نے نہ تیرے رمضان کو سمجھا اور نہ تیری عید کی قدر کی ہم پر رحم کر اور ہمیں بچا رمضان دکھلا اور ہمیں کچی عید سے مسرور کر۔شاید کہ اس طرح ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوتا اور شاید کہ آئندہ رمضان ہمارے لئے حقیقی رمضان ثابت ہوتا اور آئندہ عید ہمارے لئے حقیقی عید ثابت ہوتی۔اور اگر تمہارا نفس تمہیں وہی جواب دیتا ہے جو میں نے کہا ہے کہ اسے دینا چاہئے تو اے عزیزو! پھر بھی