خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 257

۲۵۷ جائے گا۔اور دراصل عام مومن کے لئے وہی حقیقی عید ہے گویا جو نہ ہٹنے والی عید عام مومن کے لئے ہے وہ جنت ہے اور جنت ہی بندے کا اصل مقام ہے جو بندہ اس دنیا میں اپنے روحانی کاموں کو چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔مجھے ہمیشہ ایک لطیفہ یاد رہتا ہے ایک دفعہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد مسجد سے روانہ ہونے لگا تو ایک دوست نے کہا کوئی صاحب آئے ہوئے ہیں اور وہ کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتے ہیں۔وہ کوئی غیر احمدی تھا جو ہوشیار پور کی طرف کا تھا وہ آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا فرمائیے۔وہ کہنے لگا اگر کوئی دریا کے دوسرے ! کنارے جانے کے لئے کشتی میں بیٹھ جائے تو کنارے پر پہنچ کر کیا کرے۔اس سوال کے دو ہی جواب دیئے جا سکتے تھے کہ وہ اُتر جائے یا بیٹھا رہے اور عام حالات میں انسان یہی جواب دے سکتا ہے کہ جب دریا کا کنارہ آجائے تو عقلمند آدمی کا کام یہی ہے کہ کشتی سے اُتر جائے۔پس اپنے خیال میں اس نے ایک چیستان ڈالی تھی اور اس کا خیال تھا کہ میں یہی جواب دوں گا کہ جب کنارہ آجائے تو انسان اتر جائے اور میرے اس جواب پر اس نے پھر دوسری بات یہ کہنی تھی کہ بہت اچھا جب انسان کو خدا مل گیا تو پھر اسے عبادت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔مگر جو نہی اس نے یہ سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سوال کی حقیقت مجھ پر ظاہر کر دی اور میں نے اسے یہ جواب دیا کہ اگر تو جس دریا میں وہ کشتی پر سوار ہے اس کا کوئی کنارہ ہے تو بے شک جب کنارہ آئے تو اُتر جائے لیکن اگر اس دریا کا کوئی کنارہ نہیں تو پھر وہ جہاں اُتر ا ڈوبا۔میرے اس جواب پر وہ حیران سا رہ گیا اور تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگا تو پھر یہ عبادتیں ہمیشہ ہی کرنی پڑیں گی۔وہ شخص دراصل عام فقیروں سے اس قسم کی باتیں سن کر آیا تھا اور اس کا مطلب ؟ تھا کہ نماز پڑھی جاتی ہے خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے لیکن جسے خدا تعالیٰ مل گیا اسے نماز لی کیا ضرورت ہے۔روزے رکھے جاتے ہیں خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے لیکن جسے خدا مل گیا اسے روزوں کی کیا ضرورت ہے اسی طرح زکوۃ دی جاتی ہے خدا سے ملنے کے لئے لیکن جسے خدامل گیا اسے زکوۃ کی کیا ضرورت ہے۔غرض جتنی نیکیاں ہیں وہ خدا تعالیٰ سے ملنے پر ختم ہو جاتی ہیں کیونکہ نیکیاں سواری کی طرح ہوتی ہیں اور جب انسان گھر پہنچ جائے تو سواری پر بیٹھا رہنا بے وقوفی ہوتی ہے۔میں نے اس کے اعتراض کو سمجھ کر یہی جواب دیا کہ جب منزل مقصود محدود ہو تو انسان سواری سے اُتر