خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 258

۲۵۸ پڑے لیکن جب منزل مقصود غیر محدود ہو تو سواری سے اترنے کے معنی ہی کیا ہوئے وہ تو جہاں اُترے گا وہیں تباہ ہو گا۔غرض میرے دل پر اللہ تعالٰی نے حقیقت کو منکشف کر دیا اور میں نے اسے یہی کہا کہ غیر محدود دریا میں کشتی سے اُترنے والا ڈوبے گا نجات نہیں پائے گا۔اسی طرح بہت سے لوگ دنیا میں موجود ہیں جو گو ایسے فقیروں کے مرید نہیں ہوتے مگر اس قسم کے خیالات میں مبتلاء ہوتے ہیں۔وہ چھپے رہتے ہیں اور لوگوں کو ان کے خیالات کا علم نہیں ہوتا لیکن ایک دن آتا ہے کہ وہ ننگے ہو جاتے ہیں اور ان کے عقائد لوگوں پر کھل جاتے ہیں اور گو وہ بظاہر ان فقیروں کے قائل نہیں ہوتے لیکن عملاً انہی کے قائل ہوتے ہیں۔اور کچھ دن نمازیں پڑھتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ نمازیں بہت پڑھ لیں اب انہیں نمازوں کی ضرورت نہیں رہی وہ کچھ دن روزے رکھتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے بہت روزے رکھ لئے اب انہیں روزوں کی ضرورت نہیں رہی، وہ چند دن صدقہ و خیرات دیتے ہیں اور خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ اب صدقہ و خیرات دینے کی انہیں ضرورت نہیں رہی کیونکہ وہ بہت صدقہ دے چکے حالا نکہ وہ اپنے کھانے پینے اور پہننے میں کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم نے بہت کھالیا یا بہت پی لیا یا بہت پہن لیا وہ کچھ دن روٹی کھانے کے بعد یہ نہیں کہتے کہ ہم نے بہت روٹی کھائی اب ہمیں روٹی کھانے کی ضرورت نہیں ، وہ کچھ دن پانی پینے کے بعد یہ نہیں کہتے کہ ہم نے بہت پانی پی لیا اب ہمیں پانی پینے کی ضرورت نہیں ، وہ کچھ دن کپڑے پہننے کے بعد یہ نہیں کہتے کہ ہم نے بہت کپڑے پہن لئے اب ہمیں کپڑوں کی ضرورت نہیں اور اب آئندہ نہ تو کھانا کھانے کی ضرورت ہے نہ پانی پینے کی ضرورت ہے نہ کپڑے پہننے کی ضرورت ہے بلکہ وہ اپنے جسم کی طاقت قائم رکھنے اور بدن کو سردی گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہتے ہیں مگر روح کی طاقت کا جہاں سوال آتا ہے وہ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم نے بہت عبادتیں کر لیں اب نماز روزے کی کیا ضرورت ہے۔گویا جسمانی غذا کے متعلق تو انسان ہمیشہ یہ خیال کرتا ہے کہ مجھے فلاں فلاں غذا ملتی رہنی چاہئے مگر روحانی غذا کے متعلق وہ ہمیشہ اس طرف مائل رہتا ہے کہ میں اس غذا کو کسی وقت چھوڑ دوں حالانکہ جس طرح انسان کو جسمانی غذا کی ہر وقت ضرورت ہے اسی طرح اسے روحانی غذا کی بھی ہر وقت ضرورت ہے۔مگر حالت یہ ہے کہ کچھ عرصہ تو نمازیں پڑھی جاتی ہیں، روزے رکھے جاتے ہیں اور دوسرے احکام شریعت پر عمل کیا جاتا ہے لیکن جونہی چند خواہیں آئیں یا بعض آسمانی