خطبات محمود (جلد 1) — Page 256
۲۵۶ بڑے چندے دے چکا ہوں اور اب میں سمجھتا ہوں مجھ پر کوئی چندہ نہیں۔نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ دوستوں نے ایک دن دیکھا کہ وہ نماز نہیں پڑھتے تو وہ کہنے لگے میں نے بڑی نمازیں پڑھی ہیں۔سرکار بھی ایک لمبے عرصہ تک کام لینے کے بعد پنشن دے دیتی ہے خدا کیوں نہیں گا۔تو دیکھو ایک چیز انہیں دوسری طرف لے گئی۔انہوں نے اتکال کیا اور سمجھ لیا کہ میری عید آ گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے چندہ گیا اور پھر نماز ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور ہے اللہ تعالٰی نے رحم کیا کہ انہیں وفات دے دی ورنہ ممکن تھا وہ یہ بھی کہہ دیتے کہ خدا پر ہم بہت لمبا عرصہ ایمان لا چکے ہیں اب اس سے بھی پنشن ملنی چاہئے اور گو ان کا عملی حصہ چھن گیا مگر وفات کی وجہ سے ان کا ایمانی حصہ محفوظ رہا۔یہ تو نہایت نمایاں اور کھلی مثال ہے لیکن اس نے قسم کی چھوٹی مثالیں قریباً ہر شہر اور ہر محلہ میں پائی جاتی ہیں۔کچھ دنوں تک لوگوں میں خدمت دین کا جوش رہتا ہے اور وہ ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں لیکن چند دنوں کے بعد ہی قربانیاں چھوڑ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہم نے بہت کچھ کر لیا۔یہ بے استقلالی کا مرض ہے جو لوگوں میں پایا جاتا ہے اور بے استقلالی غلط اشکال کا نام ہوتا ہے۔انسان سمجھتا ہے میں نے بہت کچھ کر لیا اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتا کہ ہماری شریعت میں بہت کے معنی ہی کوئی نہیں۔دیکھو اللہ تعالیٰ یہ کبھی نہیں کہتا کہ میں نے اپنے بندہ کو بہت دے دیا لیکن بندہ چند دن خدمت کر کے یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں نے بہت خدمت کر لی۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہندے تو خدا تعالیٰ کے دین کے متعلق یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس نے بہت کچھ دے دیا۔لیکن خدا یہ نہیں کہتا کہ میں نے اپنے بندے کو بہت کچھ دے دیا چنانچہ دیکھ لو آریہ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ کچھ مدت تک انسانی ارواح کو جنت میں رکھ کر خدا تعالٰی پھر انہیں جنت سے نکال دے گا اور دنیا میں واپس بھیج دے گا۔مثل مشہور ہے داتا دے اور بھنڈاری کا پیٹ پھٹے۔خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میں اپنے بندوں کو ابدی جنت دوں گا لیکن آریہ کہتے ہیں کہ ابدی جنت کس طرح دے سکتا ہے۔اگر وہ دینے لگے تو اس کا خزانہ نَعُوذُ بِالله خالی ہو جائے۔یہ اعتراض در اصل ان کی اپنی فطرت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ان کی اپنی فطرت میں چونکہ نجل ہوتا ہے اور یہ کہنے کے عادی ہوتے ہیں کہ بہت کچھ دے چکے بڑی خدمتیں کرلیں اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی طرف بھی وہی بات منسوب کر دیتے ہیں حالانکہ جنت کی نعماء کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَطَاء غَيْرَ مَجْذُون کہ ہم جو کچھ جنتیوں کو دیں گے وہ واپس نہیں لیں گے بلکہ ہمارا انعام برابر چلتا چلا