خطبات محمود (جلد 19) — Page 657
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء سمجھا۔کہ وہ خالی صلیب نہیں دیا کرتے تھے بلکہ یا تو انسان کو قتل کر کے صلیب پر لٹکاتے تھے یا صلیب پر لٹکانے کے بعد اس کی ہڈیاں توڑتے اور اسے مارتے تھے اور ان دونوں باتوں کا ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں سے بھی ملتا ہے اُردوانا جیل میں گو عام طور پر اسی قسم کے الفاظ ہوتے ہیں کہ یہود نے حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکا کر مار دیا۔مگر انگریزی انا جیل میں اس مفہوم کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔"They killed him and hanged him on the tree" کہ انہوں نے مسیح کو قتل کیا۔اور پھر صلیب پر لٹکا دیا کیونکہ یہودیوں میں طریق یہی تھا کہ یا تو وہ پہلے مار کر صلیب پر لٹکاتے تھے یا جسم کو صلیب پر سے اتار کر اس کی ہڈیاں توڑتے تھے خالی صلیب پر لٹکا کر مارنا اصل طریق نہیں تھا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں جب حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہود کے اس دعوی کی کہ انہوں نے آپ کو مصلوب کر دیا ہے تردید کی تو کی فرما يَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ " کہ انہوں نے نہ آپ کو قتل کیا ہے۔نہ صلیب دیا ہے گویا قتل اور صلیب دونوں لفظ قرآن کریم نے اکٹھے استعمال کئے ہیں کیونکہ ان میں خالی صلیب دینے کا دستور نہیں تھا۔بلکہ وہ یا تو پہلے مارتے اور پھر صلیب دیتے یا پہلے صلیب پر لٹکاتے اور بعد میں ہڈیاں توڑتے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کردہ حوالہ میں بھی قتل سے مراد صلیب ہی ہے۔کیونکہ یہود یا تو قتل کر کے صلیب پر لٹکاتے تھے یا صلیب پر لٹکانے کے بعد ہڈیاں تو ڑ کر قتل کرتے تھے۔ایک اور حوالہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ: - توریت کی رو سے یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والا مقتول ہو جائے۔تو وہ مفتری ہوتا ہے۔سچا نبی نہیں ہوتا“۔یہ حوالہ جیسا کہ ظاہر ہے یہود کے متعلق ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ عقیدہ تمام یہود کا نہیں بلکہ یہود میں سے اکثر کا یہ عقیدہ ہے کہ خالی مارے جانے سے کوئی نبی لعنتی نہیں ہوسکتا۔بلکہ لعنتی اس وقت ہوتا ہے جب وہ صلیب پر لٹکایا جائے۔بائیبل کا بھی صرف یہ منشاء ہے کہ جھوٹا ضرور ہلاک ہوتا ہے۔اس کے برعکس نہیں۔