خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 656

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ اور پھر فرماتے ہیں کہ ”میرے سوا تیرہ سو برس میں کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا ۱۶۴ حالانکہ پہلے آپ نے بعض افراد کے الفاظ استعمال کئے تھے۔پس جس طرح آپ نے وہاں گو بعض افراد کے الفاظ استعمال کئے۔مگر مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو لیا۔اسی طرح اس جگہ بھی صرف اپنا وجود مراد ہے اور فرماتے ہیں کہ دشمن کہتا ہے کہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔حالانکہ خدا نے مجھے مارنے کے لئے نہیں بلکہ زندہ رکھنے کے لئے پیدا کیا ہے اور کوئی نہیں جو میرے قتل پر قادر ہو سکے۔اسی طرح کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ کسی نبی کا قتل ہونا اس کے جھوٹے ہونے کی علامت ہوتی ہے اور اس کے ثبوت میں براہین احمدیہ حصہ پنجم کا حوالہ پیش کیا گیا ہے کہ:- "یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسی کو قتل کر دیا۔اس قول سے یہودیوں کا مطلب یہ تھا۔کہ عیسی کا مومنوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا۔کیونکہ توریت میں لکھا ہے کہ جھوٹا پیغمبر قتل کیا جاتا ہے پس خدا نے اس کا جواب دیا ہے کہ عیسی قتل نہیں ہوا بلکہ ایمانداروں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اُس کا رفع ہو ا کلے اسی طرح یہ حوالہ پیش کیا گیا ہے کہ :- اصل بات تو یہ تھی کہ توریت کی رو سے یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر نبوت کا دعوی کرنے والا مقتول ہو جائے تو وہ مفتری ہوتا ہے سچا نبی نہیں ہوتا۔اور اگر کوئی صلیب دیا جائے تو وہ لعنتی ہوتا ہے‘۱۸ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں قتل سے مراد در حقیقت صلیب ہی ہے۔عام قتل نہیں ہے چونکہ قتل عام لفظ ہے۔اور صلیب خاص اس لئے قتل کا لفظ جس طرح قتل پر بولا جاتا ہے خواہ کوئی تلوار سے مارے یا گلا گھونٹ کر مارے اسی طرح صلیب کے لئے بھی قتل کا لفظ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جگہ قتل کا جو لفظ استعمال کیا ہے اس سے مراد در اصل صلیب والا قتل ہی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے یہود کے اس طریق کو نہیں