خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 658

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء پس بعض یہود کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حوالہ میں جو ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کی کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ :- اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والا مقتول ہو جائے تو وہ مفتری ہوتا ہے سچا نبی نہیں ہوتا“ اس کے متعلق ضرور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض حوالے بتائے گئے ہوں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی بناء پر یہ بات لکھی۔لیکن یہ یقینی بات ہے کہ یہ ساری قوم کا عقیدہ نہیں ممکن ہے کوئی کہے کہ جب یہ ساری قوم کا عقیدہ نہیں۔بلکہ بعض یہود کا یہ عقیدہ ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ذکر کیوں کیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے ذکر کی قرآن کریم میں بھی مثال پائی جاتی ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم صدیقہ کو خدا مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی سورہ مائدہ میں یہ بیان فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں حضرت مسیح سے یہ سوال کروں گا کہ کیا کی تو نے یہ لوگوں سے کہا تھا۔کہ مجھے اور میری والدہ کو خدا سمجھو اور ہماری پرستش کیا کرو اسے اب تم عیسائیوں سے پوچھ دیکھو ان میں سے کتنے ہیں۔جو حضرت مریم صدیقہ کی خدائی کے قائل ہیں۔یقینا اگر تم تحقیق کرو گے تو تمہیں سو میں سے ایک نہیں ہزار میں سے ایک نہیں۔لاکھ میں سے ایک نہیں۔کروڑ میں سے بھی ایک عیسائی ایسا نہیں ملے گا جو یہ کہتا ہو کہ وہ حضرت مریم صدیقہ کو خدا سمجھتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آج روئے زمین پر ایک شخص بھی ایسا نہیں جو حضرت مریم صدیقہ کی خدائی کا قائل ہو۔جب ہمیں موجودہ دنیا میں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو حضرت مریم کی خدائی کا قائل ہو تو ہمیں تاریخ کی ورق گردانی کرنی پڑتی ہے۔اور بڑی بڑی پرانی تاریخوں کی چھان بین کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائیوں کا ایک چھوٹا سا فرقہ تھا جو یہ کہا کرتا تھا کہ حضرت مریم صدیقہ بھی خدا ہیں مگر قرآن نے تو یہ نہیں کہا گی کہ یہ ایک چھوٹا سا فرقہ ہے اس نے عام رنگ میں ذکر کیا ہے اسی طرح یہ حوالہ ہے۔بعض کی یہود کاممکن ہے یہ خیال ہو کہ اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والا مقتول ہو جائے تو وہ مفتری ہوتا ہے۔سچا نبی نہیں ہوتا مگر مجھے کوئی حوالہ یاد نہیں اور نہ ایسے یہود کا علم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حوالے بالعموم مفتی محمد صادق صاحب نکال کر دیا کرتے