خطبات محمود (جلد 19) — Page 536
خطبات محمود ۵۳۶ سال ۱۹۳۸ء خط لکھتے ہیں اور جب میں جواب نہیں دیتا تو وہ شکایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں شاید میں ان کے خطوں کا اس لئے جواب نہیں دیتا کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہوں حالانکہ میں جواب اس لئے نہیں دیتا کہ یہ بات میری طبیعت کے خلاف ہے اور میں اسے بھی سوال کا ایک رنگ سمجھتا ہوں۔ہاں اگر کی کوئی دوست خود بخود کوئی تحفہ دے جائے تو میں اسے رد بھی نہیں کرتا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ امر ثابت ہے کہ آپ ایسے تحائف قبول فرمالیا کرتے تھے۔آپ نے فرمایا بھی ہے کہ بِغَيْرِ اَشْرَافِ نَفْسٍ بغیر نفس کی خواہش کے اگر کوئی شخص تحفہ دے تو اُسے قبول کر لو بَارَكَ الله لكَ فِیهِ اللہ تعالیٰ تجھے اس میں برکت دے اور رسول کریم صلی اللہ کی علیہ وسلم خود بھی ایسے تحائف قبول کر لیا کرتے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجارت نہیں کیا کرتے تھے آپ کی کوئی جائداد نہیں تھی۔پھر آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں کوئی اجر نہیں مانگتا۔ایسی صورت میں صحابہ میں سے اگر کوئی اپنی مرضی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حج خدمت میں ہدیہ کچھ پیش کرتا تو آپ اسے قبول فرما لیتے کے اور اگر کوئی آپ ہی اپنی مرضی سے خدمت کرتا اور پھر اس کا احسان جتاتا ہے تو اس سے زیادہ گندہ اور کمینہ شخص اور کون ہوسکتا ہے اور کب اسے کہا گیا تھا کہ کچھ دو۔اسی طرح میں ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ مجھے کچھ مت دو اور اگر کوئی مجھ سے کچھ لانے کے لئے پوچھتا بھی ہے تو میں اس کا جواب نہیں دیتا۔ایسی حالت میں بغیر میری خواہش کے اگر کوئی شخص مجھے نذرانہ دیتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے دیتا ہے میں نے کبھی کسی سے نذار نہ نہیں مانگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایام میں سیالکوٹ کے ایک زمیندار دوست نے میرے ہاتھ پر چونی رکھ دی مجھے یاد ہے کہ اس وقت شرم کے مارے میرا جسم پسینہ پسینہ ہو گیا اور میں اس مجلس سے بھا گا اور سیدھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی خدمت میں پہنچا اور وہ چونی آپ کے سامنے پیش کر دی اور شکوہ کی کیا کہ ایک شخص نے آج میرے ہاتھ پر یہ چونی رکھ دی ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ مجھے اس کا فعل اچھا نہیں لگا۔فرمایا تمہیں اس کی کے جذبے کی قدر کرنی چاہیئے اس نے جو کچھ کیا ہے محبت کے ماتحت کیا ہے، تمہاری ہتک کرنے کے خیال سے نہیں کیا۔حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے کچھ دے تو وہ لے لو۔