خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 535

خطبات محمود ۵۳۵ سال ۱۹۳۸ء انسان کی یہ طاقت نہیں کہ مجھے خلافت سے معزول کرے۔پھر آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص میری خلافت پر اعتراض کرے گا وہ ابلیس بن جائے گا اور جب میں مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اُس کو آپ کھڑا کرے گا۔پس جب انہوں نے بھی یہی باتیں کہی ہیں تو معترض اپنے دل میں سوچتا اور کہتا ہے اگر حضرت خلیفہ اول کی باتیں صحیح تھیں تو موجودہ خلافت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور اگر موجودہ کی خلافت قابلِ اعتراض ہے تو حضرت خلیفہ اول کی خلافت بھی باطل ہے اور چونکہ اس کے دل کی میں بغض ہوتا ہے اس لئے وہی اعتراض جو وہ مجھ پر کرتا ہے حضرت خلیفہ اول پر بھی کر دیتا ہے اور اس طرح ان کی خلات کا بھی منکر ہو جاتا ہے۔پھر اس سے اوپر جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں کو دیکھتا ہے جو آپ نے میرے متعلق فرمائیں ، آپ کی ان دعاؤں کی کو پڑھتا ہے جو آپ نے میرے لئے اور اپنی باقی اولاد کے لئے کیں ، تو اسے کہنا پڑتا ہے کہ یہ بھی غلط ہی ہیں۔وہ پیشگوئیاں سنتا اور کہتا ہے کہ یہ پوری نہیں ہوئیں اور دعاؤں کا ذکر سنتا ہے تو کہتا ہے ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعائیں بیشک کی تھیں مگر وہ قبول نہیں ہوئیں۔ان کم بختوں کی دعائیں تو قبول ہو جائیں لیکن اگر دعائیں قبول نہ ہوں تو خدا کے مسیحی اور اس کے نبی کی ! اپنے متعلق تو ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بار بار کہتے ہیں ہم دعا کریں گے اللہ تعالیٰ ہمیں غلبہ دے گا اللہ بچوں کی سنتا ہے۔مگر کیا مسیح موعود ہی نَعُوذُ بِالله احرار کے اقوال کے مطابق کذاب اور دجال تھا کہ خدا نے اس کی دعاؤں کو نہ سنا۔وہ سنتا ہے تو انہی منافقوں کی اور بد باطنوں کی۔پھر لکھنے والا مجھے لکھتا ہے تم نے جماعت سے نذرانے وصول کر کے اسے غریب کر دیا۔تم اس وقت یہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہو ، کیا تم میں سے کوئی ایک شخص بھی قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ میں نے کبھی ایک پیسے کا بھی اس سے فائدہ اٹھایا ہو۔میرا طریق ہمیشہ یہ ہے کہ بعض دوست میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم فلاں چیز آپ کے لئے لانا چاہتے ہیں وہ کس سائز کی ہو۔مثلاً بوٹ کا کیا سائز ہو، یا جرا میں کس سائز کی ہوں مگر میں کبھی انہیں جواب نہیں دیتا سوائے اس کے کہ بعض دفعہ کوئی پیچھے پڑ کر پاؤں کا ناپ لے لے تو میہ دوسری بات ہے۔ورنہ میں نے کبھی کسی کو بھی ایسی باتوں کا جواب نہیں دیا بلکہ بعض تو کئی کئی