خطبات محمود (جلد 19) — Page 537
خطبات محمود ۵۳۷ سال ۱۹۳۸ء چنانچہ اب اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے مجھے کچھ دے دے تو میں لے لیتا ہوں ورنہ مانگنے کے لحاظ سے کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کبھی کسی سے کچھ مانگا ہو۔باقی رہے چندے سواگر میں نے اپنے لئے جماعت سے نذرانے لینے ہوتے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں چندے کم لگا تا تا جماعت کے پاس روپیہ رہے اور وہ نذرانوں میں مجھے دیتی رہے۔کیونکہ میں خیال کرتا ہے اگر تمام روپیہ سلسلہ کے خزانہ میں چلا گیا تو جماعت غریب ہو جائے گی اور وہ مجھے نذرانے نہیں دے سکے گی۔پس اس نقطہ نگاہ کے ماتحت مجھے چندے کم لگانے چاہئیں تھے مگر میرا زیادہ کی چندے مانگنا ہی بتاتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں سلسلہ کی خیر خواہی کے لئے کر رہا ہوں۔پھر میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض صرف مجھ پر ہی نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام پر بھی اعتراض پڑتا ہے۔دشمنوں کی تمام کتابیں اس قسم کے اعتراضات سے بھری پڑی ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام کے زمانہ میں بعض منافق بھی اس قسم کے اعتراض کر دیا کہ کرتے تھے۔لدھیانہ کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب کے سامنے کہا کہ جماعت مقروض ہو کر اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتی ہے مگر یہاں بیوی صاحبہ کے زیورات اور کپڑے بن جاتے ہیں اور ہوتا ہی کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے کی فرمایا اس پر حرام ہے کہ وہ ایک جب بھی کبھی سلسلہ کے لئے بھیجے اور پھر دیکھے کہ خدا کے سلسلہ کا کیا بگاڑ سکتا ہے اور آپ نے فرمایا کہ آئندہ اس سے کبھی چندہ نہ لیا جائے حالانکہ وہ پرانا احمدی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے دعوئی سے پہلے بھی آپ سے تعلق رکھتا تھا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے زمانہ میں تو ایک بے دین اور بے ایمان شخص کے لئے اشتباہ کا موقع کسی حد تک پیدا ہو سکتا تھا کیونکہ نذرانہ کا رو پید اور لنگر خانہ کا رو پیدا کٹھا کی آتا تھا مگر ہمارے زمانہ میں ہر بات بھی نہیں۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے زمانہ میں میں لنگر کا افسر تھا اور یہ بات میں بھی جانتا ہوں اور دوسرے سب دوست بھی جانتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے گھر ہمیشہ لنگر۔