خطبات محمود (جلد 19) — Page 430
خطبات محمود ۴۳۰ سال ۱۹۳۸ء نہیں ہوں گے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک جنگ کے موقع پر ایک شخص نے اتنی جرات اور دلیری سے جہاد میں حصہ لیا کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم اسے دیکھ کر بے اختیار کہتے کی تھے۔خدا اسے جزائے خیر دے کہ یہ آج ہم سب میں سے زیادہ کام کر رہا ہے یہ شخص یقینی جنتی ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا اگر صفحہ دنیا پر کسی نے چلتا پھر تا دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اس کو دیکھ لے۔اب وہ شخص بظاہر مسلمان تھا نہیں تو صحابہ اسے جنتی قرار نہ دیتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوزخی قرار دے دیا۔سے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام کے ذریعے بتا دیا ہو گا کہ یہ دوزخی ہے لیکن کوئی دوسرا شخص ایسے آدمی کو کا فرقرار نہیں دے سکتا۔تو در حقیقت اسلام سے نکالنے کا کام اللہ تعالیٰ کا ہے ، ہمارا نہیں۔ہم بعض دفعہ ظاہر میں کسی کے متعلق فتوی دے دیتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے حالانکہ وہ کافر ہوتا ہے اور بعض دفعہ کسی کو نظام کے توڑنے کے باعث جماعت سے خارج کر دیتے ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ احمدی نہیں رہا۔بعض دفعہ وہ جماعت سے خارج ہونے پر بھی احمدی رہتا ہے اور بعض دفعہ نہیں رہتا۔ہر شخص کے ایمانی حالات کے مطابق اس کی احمدیت باقی رہتی ہے یا جاتی رہتی ہے۔غرض ہم جس کو بھی خارج کرتے ہیں احمدیت یا اسلام سے خارج نہیں کرتے ،سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کے فتویٰ کے مطابق ایسا کریں۔اگر خدا تعالیٰ کا فتویٰ موجود ہو تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ احمدی نہیں۔ورنہ اس کے بغیر ہمارا تو یہ حق ہے کہ ہم کہیں اس کا ہماری جماعت سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ حق نہیں کہ اس کے متعلق یہ کہیں کہ وہ احمدی نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ گناہ تو بہ سے معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ اس نیت سے کوئی گناہ نہ کرے کہ بعد میں معافی لے لوں گا۔جو شخص اس نیت سے گناہ کرتا ہے کہ میں بعد میں تو بہ کرلوں گا اس کی تو بہ چونکہ بناوٹی ہوتی ہے اس لئے وہ قبول نہیں ہو سکتی إِلَّا مَا شَاءَ اللہ اس لئے نہیں کہ تو بہ سے گناہ معاف نہیں ہو سکتے بلکہ اس لئے کہ وہ تو بہ حقیقی نہیں ہوتی۔اگر حقیقی تو بہ ہوتی تو وہ گناہ کے ارتکاب کے بعد کی ہوتی۔جو شخص گناہ سے پہلے یہ خیال کرتا ہے کہ میں گناہ کر لیتا ہوں پھر تو بہ کرلوں گا اس کی وہ تو بہ پہلے کی ہے اور اس کا گناہ اس کی تو بہ کو مٹا دیتا ہے۔