خطبات محمود (جلد 19) — Page 429
خطبات محمود ۴۲۹ سال ۱۹۳۸ دوبارہ گناہ کرے تو وہ زیادہ سزا کا مستحق ہوگا۔پس قاضی محمد علی صاحب نے جس فعل کا ارتکاب کیا چونکہ وہ ہمارے سلسلہ میں پہلا فعل تھا اور اس سے پہلے زیادہ زور نہیں دیا گیا تھا، اس لئے ہم نے قاضی محمد علی صاحب سے اور سلوک کیا اور جب انہوں نے تو بہ کر لی اور ساتھ ہی قانون کا منشاء بھی پورا ہو گیا اور انہیں پھانسی مل گئی تو ہم نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں معافی دے دی ہے اور جوز جر ہوگئی ہے وہ آئندہ کے لئے کافی ہے۔مگر جب دوسرا واقعہ ہوا تو یہ سمجھتے ہوئے کہ پہلی تنبیہہ کافی نہیں ہوئی مزید سختی کی کی ضرورت سمجھی گئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ جس سے یہ واقعہ ہوا ہے اس کا جنازہ میں نہ پڑھوں اور ساتھ ہی اعلان کر دیا گیا کہ اگر آئندہ کسی شخص نے مشتعل ہو کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ایسے شخص کا جنازہ خلیفہ وقت ہی نہیں باقی جماعت بھی نہیں پڑھے گی کیونکہ جسے ہم جماعت سے خارج کر دیتے ہیں وہ اگر مر جائے تو جماعت اس کا جنازہ نہیں پڑھتی۔اور در حقیقت یہ ایک رنگ میں مقاطعہ کا فیصلہ ہے ورنہ اگر کوئی کی واقع میں احمدی ہو تو اسے احمدیت سے کوئی خارج نہیں کر سکتا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہم جب کسی کو خارج کرتے ہیں تو جماعت سے کرتے ہیں ، احمدیت سے نہیں۔احمدیت سے خارج تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نہیں کر سکتے اور چونکہ احمدیت اور اسلام ایک ہی چیز کا نام ہے اس لئے اسلام کے متعلق بھی یہی کی اصل ہے کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کسی انسان کو خارج نہیں کر سکتے۔آپ اسے مسلمین سے خارج کر سکتے ہیں مگر اسلام سے خارج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ خدا کا کام ہے اور وہی جانتا ہے کہ واقع میں کوئی شخص دل سے اسلام سے نکل گیا ہے۔یا نہیں۔جن باتوں سے اسلام روکتا ہے اگر کوئی شخص ان کا مرتکب ہوتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں لیکن بعض لوگ با وجود ظاہری طور پر اسلامی احکام پر عمل کرنے کے پھر بھی مسلمان نہیں ہوتے کیونکہ گو وہ بظاہر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے قائل ہوں ، نمازیں پڑھتے ہوں، روزے رکھتے ہوں، حج کرتے ہوں ، زکوۃ دیتے ہوں ، پھر بھی ممکن ہے کہ ان کے دل میں اسلام نہ پایا جاتا ہو۔ایسے لوگوں کو گو ہم ظاہر میں مسلمان ہی کہیں گے مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مسلمان جماعت