خطبات محمود (جلد 19) — Page 431
خطبات محمود ۴۳۱ سال ۱۹۳۸ لیکن جو ایسی صورت میں گناہ نہ کرے بلکہ جذبات سے متاثر ہوکر بجَهَالَةٍ کرے تو تمام اہل السنت کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ امر ثا بت ہے کہ ایسی تو بہ قبول کر لی جاتی ہے اور تائب کا گناہ معاف ہو جاتا ہے چاہے کتنا بڑا گناہ کیوں نہ ہو۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ ایک شخص کو حد لگائی گئی تو آپ نے فرمایا۔حدود تو بہ کے ساتھ انسانی گناہ معاف کرا دیتی ہیں۔اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ حد ہمیشہ بڑے گناہ میں لگائی جاتی ہے۔مثلاً قتل ہے یا زنا ہے یا قذف ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ ہے۔کہ ان حدود کے ساتھ جب تو بہ مل جائے تو گناہ معاف ہو جاتا ہے۔پس جب کوئی شخص اصول دین پر ایمان رکھتا ہو اور کسی اعتقادی مسئلہ کا انکار نہ کرتا ہو اور نہ منصوص احکام کا انکار کرتا ہو۔مثلاً نماز، زکوۃ وغیرہ یعنی وہ یہ نہ کہتا ہو کہ نماز نہیں پڑھنی چاہئے؟ یا روزہ نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ نماز کا حکم منصوص احکام میں سے ہے۔اس کے متعلق قرآن کریم میں بھی تاکید پائی جاتی ہے ، سنت سے بھی یہ ثابت ہے اور حدیث سے بھی یہ ثابت ہے اور کسی عمل کو ثابت کرنے کے لئے انہی تین شاہدوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اختلاف کا سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص کہے کہ قرآن سے یہ ثابت نہیں یا سنت اس کے خلاف ہے یا حدیث اس کی تائید میں نہیں لیکن جب قرآن، سنت اور حدیث تینوں ایک بات پر متفق ہوں تو وہ تین طرح منصوص حکم ہے اور اگر کوئی شخص اس کا انکار کرتا ہے تو وہ یقیناً کافر ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا لیکن نماز کا قائل ہے تو یہ دوسری صورت ہوگی لیکن اگر کوئی کہے کہ نماز پڑھنی ہی نہیں چاہئے تو وہ کافر ہو جائے گا۔تو اگر وہ کسی اعتقادی مسئلہ کا انکار نہ کرتا ہو اور نہ منصوص احکام کا انکار کرتا ہو بلکہ محض جوش نفسانی سے کوئی کام کر بیٹھے یعنی اس کے نفس کو اتنا جوش آجائے کہ اس کی دینی طاقت کمزور ہو جائے اور وہ جذبات کی رو میں بہہ جائے تو وہ حقیقتاً مذہب سے باہر نہیں ہو جا تا بلکہ مسلمان ہی کہلائے گا مثلاً کوئی شخص چوری کرتا ہے۔اب اگر وہ یہ کہے کہ گوخدا نے یہ کہا ہے کہ چوری مت کرو مگر میں ضرور کروں گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔لیکن اگر کی وہ یہ کہے کہ خدا نے تو یہ کہا ہے کہ چوری نہ کرو اور میں بھی مانتا ہوں کہ چوری بہت بُری چیز ہے مگر میرا نفس ایسا کمزور ہے کہ وقت پر یہ بات مجھے بھول جاتی ہے اور بے اختیار چوری کر لیتا ہوں تو وہ