خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 36

خطبات محمود ۳۶ سال ۱۹۳۸ اکٹھی کر کے لے گئے ہیں۔ہر شخص جانتا ہے کہ ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں دھوکا کا خطرہ نہیں۔اس لئے وہ سو دا دو پیسے گراں لے لے گا مگر لے گا انگلستان سے ہی۔تو بعض باتیں بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں مگر وہ اقوام کی حالت کو بدل کر رکھ دیتی ہیں۔جس طرح دیانت قوم کی مالی حالت کو بہتر بنا دیتی ہے اسی طرح بد دیانتی سے نقصان پہنچتا ہے۔ایک شخص جو ایک روپیہ کسی کا کھا جاتا ہے، وہ تو خیال کرتا ہے کہ میں نے ایک روپیہ کھایا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک نہیں ایک کروڑ بلکہ ایک ارب کھاتا ہے کیونکہ اس کے ایک روپیہ کھانے کے یہ معنے ہیں کہ قومی دیانت پر حرف آئے گا اور قومی دیانت کی شہرت کی صورت میں دوسروں سے جو کروڑ ہا روپیہ حاصل کیا جاسکتا تھا وہ نہ مل سکے گا۔کیونکہ اس کی بددیانتی سے قومی دیانت کے متعلق شکوک پیدا ہو جا ئیں گے۔پس یہ معمولی باتیں نہیں ہیں اور نہ معمولی کوشش سے حاصل ہوسکتی ہیں۔اور اگر تم انہیں اپنے اندر پیدا کر لوتو پھر حکومتیں بھی اور بادشاہتیں بھی تمہارے سامنے جھکیں گی اور سمجھیں گی کہ ان سے ملنے میں فائدہ ہے۔اسی طرح اگر تم سچائی کا معیار بلند قائم کر لو تو اگر ایک شخص تم پر کی الزام لگانے والا ہو تو سو اس کی تردید کیلئے کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا کہ ہر گز نہیں ، احمدی جھوٹے نہیں ہو سکتے۔اخلاقی لحاظ سے اصولی صداقتیں چار ہیں۔دیانت ،صداقت ، محنت اور قربانی۔اور اگر یہ چار تم اپنے اندر پیدا کر لوتو یقیناً تم کامیاب ہو سکتے ہو۔جس طرح اللہ تعالیٰ کی انسان سے تعلق رکھنے والی ابتدائی صفات چارہی ہیں اسی طرح یہ چار اصولی صداقتیں ہیں جن کے ما تحت سارے اخلاق آ جاتے ہیں۔میں اس مضمون کو زیادہ وضاحت سے بیان کرنا چاہتا تھا مگر اب چونکہ دیر ہوگئی ہے اس لئے اسی پر بس کرتا ہوں۔“ الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۳۸ء) 66 بخاری کتاب المغازى باب قصة غزوة بَدْرٍ تحفہ قیصریہ صفحہ ۳۱۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۸۳ ( مفهوماً ) ابو داؤد کتاب الادب باب مَايُقَالُ عِنْدَ الْغَضَبِ النساء:۳۶ ۵ تذکرہ صفحہ ۷۰ ایڈیشن چہارم متی باب ۲۳ آیت ۲ ،۳ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی ۱۸۸۷ ءلندن ( مفہوماً )