خطبات محمود (جلد 19) — Page 35
خطبات محمود ۳۵ سال ۱۹۳۸ء انگلستان کے تاجر اس بات میں مشہور ہیں کہ وہ دھوکا نہیں کرتے اور اس شہرت کی وجہ سے وہ فائدہ بھی بہت اُٹھاتے ہیں۔وہ امانت اور دیانت سے تجارت اس وجہ سے نہیں کرتے کہ وہ اس کو مذہباً اچھا سمجھتے ہیں بلکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کو چھوڑنے سے ہماری تجارت کو نقصان پہنچے گا۔مذہب کے وہ اتنے قائل نہیں ہوتے مگر تجارتی مفاد کے لئے اس حکم پر سختی سے عمل کرتے ہیں اس لئے تجارتی دنیا میں ان کی بات کو بہت پختہ سمجھا جاتا ہے۔ان میں بھی بددیانت لوگ ہیں مگر بہت بڑی کثرت چونکہ دیانت سے کام کرنے والوں کی ہے اس لئے وہ اپنی قومی ساکھ کو قائم رکھ رہے ہیں۔تو قومی دیانت سے ایسا اعتبار قائم ہو جاتا ہے کہ غیر قوموں کے لوگ بھی خود آ آ کر روپیہ دیتے ہیں۔مسلمانوں میں جب تک دیانت قائم تھی ، تجارت کا یہی اصول تھا۔جب تاجروں کا قافلہ روانہ ہونے لگتا تو لوگ خود آ آ کر روپیہ دے جاتے تھے۔وہ لے آتے تھے اور پھر واپس جا کر منافع ان میں تقسیم کر دیتے تھے۔آج لوگ کہتے ہیں ہم تجارت کس طرح کی کریں حالانکہ اگر قومی دیانت قائم ہو جائے تو وہ لاکھوں روپیہ جو لوگوں کے گھروں میں پڑا ہے فوراً باہر آ سکتا ہے۔یہاں قادیان میں ہی لوگوں کے پاس کافی روپیہ ہے۔اگر چہ تنخواہیں اور آمد نیاں کم ہیں مگر ہم چونکہ کفایت سے گزارہ کرنا سکھاتے ہیں اور اسراف سے روکتے ہیں اس لئے لوگ کچھ نہ کچھ پس انداز کر لیتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جب کسی نفع مند سودا کا موقع ہو تو لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ سفارش کریں یہ ہمیں حاصل ہو جائے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی ایسے موقع پر باہر سے کسی کی طرف سے انتظار کرنا پڑے۔اگر ایک ہزار کی جائیداد کے متعلق دس بھی کی ایسی درخواستیں آئیں تو اس سے یہ تو معلوم ہو سکتا ہے کہ ان دس لوگوں کے پاس دس ہزار روپیہ موجود ہے۔پس اگر لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جاکر ان کا روپیہ محفوظ رہے گا تو نہ صرف احمدی بلکہ دوسری قوموں کے لوگ بھی بخوشی اپنا روپیہ دے سکتے ہیں۔مگر یہ بات انفرادی دیانت سے حاصل نہیں ہو سکتی ، شہرت ہمیشہ قومی دیانت ہی پکڑتی ہے اور اُسی کی وقت لوگ اپناروپیہ دینے کیلئے تیار ہو سکتے ہیں جب یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاچکی ہو کہ احمدی بد دیانت نہیں ہوسکتا۔میں بتا چکا ہوں کہ انگلستان کے تاجر اپنی اس دیانت کی وجہ سے تمام دنیا سے مال و دولت