خطبات محمود (جلد 19) — Page 37
خطبات محمود ۳۷ سال ۱۹۳۸ متواتر اور مسلسل قربانیوں سے ہی خدا تعالیٰ حاصل ہوتا ہے فرموده ۲۱ /جنوری ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - پچھلے جمعہ کے بعد سے مجھے گلے کی تکلیف ہے اور اس وجہ سے میں بلند آواز سے نہیں بولی سکتا۔پس اپنی آواز دوسرے دوستوں کی وساطت سے پہنچا تا ہوں ( تین دوست بلند آواز سے خطبہ کے الفاظ دُہرانے کیلئے مقرر کئے گئے تا حاضرین تک آواز پہنچاسکیں )۔تحریک جدید کے دوسرے دور کے مالی وعدے کا زمانہ اب چند دنوں میں ختم ہونے والا کی ہے۔اور جیسا کہ میں اعلان کر چکا ہوں ۳۱ / جنوری کے بعد ہندوستان کے اُن علاقوں کے جن میں اُردو بولی جاتی یا سمجھی جاتی ہے مزید وعدے وصول نہیں کئے جائیں گے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس خطبہ کے ذریعہ سے جو اس دوران میں چھپ کر جماعت تک پہنچنے والے خطبوں میں سے آخری خطبہ ہوگا جماعت کو پھر ایک دفعہ ان کی مالی خدمات کے سلسلہ میں ذمہ داریوں اور دوسری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا دوں۔خدا تعالیٰ کے کام ہو کر رہیں گے اور بندوں کی سستی یا غفلت ان میں کوئی حرج پیدا نہیں کر سکتی۔وہ جوسستی کرتا ہے خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے محروم کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا دین زید یا بکر کا محتاج نہیں۔اگر زید یا بکر پہلی آواز دینے والوں میں سے بنیں تو خدا تعالیٰ دوسرے ثواب کی پہلی آواز بھی انہی تک پہنچاتا ہے ج