خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 240

خطبات محمود ۲۴۰ سال ۱۹۳۸ دی گئی ہے وہ انسانی اُمنگوں اور جذبات کو چلتی نہیں بلکہ انہیں بڑھاتی اور ترقی دیتی ہے۔وہ تعلیم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا نے کسی انسان کو غلام نہیں بنایا اور کوئی انسان کسی دوسرے کو غلام بنا بھی کی نہیں سکتا جب تک وہ خود غلام نہ بن جائے۔اس تعلیم کے ماتحت ہمیں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ ترقی کا جب کوئی ایک راستہ ہمارے لئے مسدود ہو جائے تو اللہ تعالیٰ بعض اور راستے ہمارے لئے کھول دیتا ہے اور اگر ہم ان راستوں کو اختیار کریں تو بالکل ممکن ہے کہ جو آج ہم پر افسر ہیں وہ کل ہمارے غلام ہو جائیں۔مثلاً انہی ذرائع میں سے ایک ذریعہ تبلیغ ہے یا اپنی اخلاقی برتری کی کا ثبوت مہیا کرنا ہے۔دنیا میں اخلاقی برتری کے ہوتے ہوئے کبھی کوئی قوم غلام نہیں ہوسکتی۔غلام قوم وہی ہوگی جو اخلاق میں بھی پست ہوگی۔ہمارے ملک میں عام طور پر انگریزوں کو بُرا سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اُن بعض خیالات اور عقائد کو مستی کر کے جن میں ہمارا اور ان کا اختلاف ہے اور جن میں ہم انہیں غلطی پر سمجھتے ہیں، عملی رنگ میں ان کو دیکھا جائے تو ایک ہندوستانی اور انگریز میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ایک انگریز کی کوشش ، اُس کی جد و جہد ، اُس کی جی قربانی اور اُس کا ایثار اتنا نمایاں ہوتا ہے کہ ایک ہندوستانی کی جدوجہد کی اس سے کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔وہ یورپ سے چلتے اور ہندوستان میں آکر سالہا سال تک تبلیغ کرتے ہیں۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ یہ پادری کیا ہیں انگریزوں نے انہیں اپنے سیاسی غلبہ کے حصول کا ایک ذریعہ بنایا ہوا ہے۔پھر اگر ان کی تبلیغ کا ذکر آئے تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اجی ! یہ ان کی تبلیغ کی اپنے فائدہ کیلئے ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ وہ اپنے فائدہ کیلئے جو قربانیاں کرتے ہیں کیا اس قسم کی قربانیاں ایک ہندوستانی نہیں کر سکتا ؟ وہ چالیس چالیس، پچاس پچاس بلکہ ساٹھ ساٹھ سال تک ہندوستان میں رہتے ہیں ، یہیں بوڑھے ہوتے اور یہیں مرجاتے ہیں اور واپس جانے کا نام تک نہیں لیتے مگر ایک ہندوستانی یا تو آوارہ ہو کر گھر سے نکلے گا یا اگر آوارہ نہ ہوگا تو غیر ملک میں جانے کے چند سال کے بعد ہی شور مچانا شروع کر دے گا کہ مجھے واپس بلا لو۔غرض یا تو آوارہ ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور اگر آوارہ ہو کر گھر سے نہیں نکلتا تو غیر ممالک میں ہمیشہ بے کل رہتا اور واپسی کیلئے کوشش کرتا رہتا ہے۔اس کے مقابلہ میں یورپین قومیں آوارہ ہو کر اپنے ممالک سے نہیں نکلتیں۔وہ کام کیلئے نکلتی ہیں اور پھر جب کسی دوسرے ملک میں اپنا کام