خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 239

خطبات محمود ۲۳۹ سال ۱۹۳۸ء بن جائے۔علاوہ ازیں بعض اور بھی نقائص ہیں جو مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں اور جو زمانہ کی مخفی رو یا ورثہ کے اثرات کے ماتحت ہماری جماعت کے بعض افراد میں بھی پائے جاتے ہیں۔ایسی مجالس کے قیام کی ایک غرض ان نقائص کو دور کرنا بھی ہوگی۔مثلاً ہندوستانی ایک عرصہ سے غلامی کی زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں اور میں نے بار ہا بتایا ہے کہ غلامی کی زندگی اپنے ساتھ بعض نہایت ہی تلخ اور نا خوشگوار نتائج لاتی ہے۔مثلاً غلامی کی ذہنیت جن لوگوں کے اندر پیدا ہو جائے وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔فاتح اقوام ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہیں کہ غیر حکومتوں کے مقابلہ میں ہماری تجارت اعلیٰ ہو، غیر حکومتوں کے مقابلہ میں ہماری دفاعی کوششیں مضبوط ہوں، غیر حکومتوں کے مقابلہ میں ہمارا تعلیمی معیار زیادہ بلند ہو، غیر حکومتوں کے مقابلہ میں ہماری صنعت و حرفت نہایت بلند پایہ ہو۔اسی طرح اور بیسیوں باتیں ہیں جو اُن کی کے دلوں میں جوش پیدا کرتی رہتی ہیں اور ہر سال ان باتوں پر جھگڑے رونما ہوتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں قوم میں بیداری اور بلند خیالی پیدا ہو جاتی ہے۔مگر غلام قوم کے معنے یہ ہیں کہ اس کی تمام جد و جہد صرف اس امر پر آکر ختم ہو جاتی ہے کہ مزدوری کی اور پیٹ پال لیا یا مدر سے گئے اور تعلیم حاصل کر لی۔بظاہر یہ ایک آرام کی زندگی نظر آتی ہے مگر دماغی لحاظ سے کی قتل عامہ کی حیثیت رکھتی ہے۔کیونکہ تمام قوم کا ذہن مُردہ کر دیا جاتا ہے اور وہ قوم مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔اس کی مثال بالکل اس طوطے کی سی ہو جاتی ہے جسے کئی سال تک پنجرے میں بند ہے رکھنے کے بعد جب آزاد کیا جاتا ہے تو وہ اِدھر اُدھر پھدک کر پھر پنجرے میں ہی آ بیٹھتا کیونکہ اُڑنے کی ہمت اس میں باقی نہیں رہتی۔اسی طرح غلام قوموں میں سستی اور غفلت کو کی امن اور آرام سمجھا جاتا ہے اور اُمنگوں کا فقدان اس قوم میں اطمینان قرار پاتا ہے۔جب ان میں سے کوئی شخص یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں بڑے اطمینان کی زندگی بسر کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرا دل اُمنگوں سے بالکل خالی ہے۔اور جب وہ یہ کہتا ہے کہ دیکھو مجھے کیسا امن کی اور چین نصیب ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر قسم کی جدو جہد اور ترقی کے راستے میرے لئے مسدود ہو چکے ہیں۔غرض ان عیوب اور نقائص کو دور کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے کیونکہ ہمیں جو تعلیم